امریکی مفادات پر حملہ برداشت نہیں‘ ٹرمپ کا ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان
واشنگٹن،تہران،ریاض،بغداد (صباح نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مفادات پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج پر بیلسٹک میزائل حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور متعدد ایرانی میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم امریکی دفاعی نظام نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر سخت حملہ کیا جائے گا اور امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ انہوں نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو “نیا کینسر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا نے مل کر ان کے خاتمے کی کوشش کی ہے۔فاکس نیوز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملے عراقی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہ کر کیے گئے۔دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمانی حدود میں واقع بحری راستے کے ایک حصے کا کنٹرول بھی ایران کے پاس ہونا چاہیے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عمان نے تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے جس کے تحت 50 فیصد راستہ ایرانی اور 50 فیصد عمانی علاقائی پانیوں میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مطابق بحری جہاز ایرانی پانیوں سے داخل ہو کر عمانی پانیوں سے گزریں گے۔ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بحری گزرگاہ کا وہ حصہ جو ایرانی پانیوں میں واقع ہے اس کا انتظام ایران کرے گا۔کاظم غریب آبادی نے کہا کہ عمانی پانیوں میں موجود راستے کے ایک حصے کا کنٹرول بھی ایران کے سپرد کیا جائے،اگر عمان نے ایران کی تجویز قبول نہ کی تو آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ادھرایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹ کام کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمزمیں وارننگ نظر انداز کرنے والے 3 آئل ٹینکرز کو بھی روک دیا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے۔ جنھیں روک لیا گیا ہے۔ امریکی فورسز چوکس اور ہائی الرٹ ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے اردن میں واقع امریکی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اردن کی فضاؤں میں دھماکے سنے گئے ،جہاں میزائل دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے فائر کئے گئے میزائلوں کو روکا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی یہ کارروائی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مکمل تعاون اور رابطے کے ساتھ انجام دی گئی،سعودی رائل فضائیہ نے عراق میں 4 مقامات پر حملے کیے ان میں بصرہ، واسط، کربلا اور نینوی کا میدان شامل ہے سعودی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا مسلسل سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جن کو اب جواب دیا جا رہا ہے، سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت کی مسلح افواج نے عراق میں ان اہداف کو نشانہ بنایا جو سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر سے منسلک تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی قومی سلامتی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ترجمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مستقبل میں بھی کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے بھی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل حق دفاع خود کے مطابق کیا گیا۔وزارت خارجہ کے بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق سے ڈرون حملے کر کے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد یہ محدود اور ہدفی کارروائی کی گئی۔سعودی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہاں نہیں تاہم اگر اس کی سلامتی، خودمختاری یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔جبکہ عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب عراق میں اس کے ٹھکانوں پر امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں کم از کم 20 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔گروہ نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ ادھرایرانی اخبار کے مطابق عراق میں امریکی، سعودی حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 4 فوجی مشیر شہید ہوئے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی حکومت نے عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی شہادت کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں عراق پر امریکی اور سعودی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلانا ہے۔اپنے بیان میں ایران نے عراق پر دونوں ممالک کے حملوں کو جارحانہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ یہ حملے مغربی ایشیائی خطے میں جنگ اور تنازعات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے امریکا اورصیہونی حکومت کی خواہشات کے عین مطابق ہیں۔علاوہ ازیں عراق کے بااثر شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے ایران کی پاسداران انقلاب اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ عراق کی سرزمین کو کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ کریں اور ملک کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنے سے گریز کریں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو عراق کی سرزمین سے دور رہنا چاہیے اور ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو عراق کے لیے نئے خطرات پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ بے قابو ملیشیاؤں کو خلیجی ممالک کو یہ جواز نہیں دینا چاہیے کہ وہ عراق کی سرزمین کو نشانہ بنائیں۔مقتدیٰ الصدر نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔ ان کے مطابق کسی کو بھی صہیونی اور امریکی منصوبوں کا حصہ بن کر برادر اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے پر نہیں اکسانا چاہیے۔انہوں نے عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مسلح گروہ عراق کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔عراقی رہنما نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ ریاستی رٹ کو مضبوط بنائے اور تمام مسلح سرگرمیوں کو قانون کے دائرے میں لائے تاکہ ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔مقتدیٰ الصدر نے خبردار کیا کہ ملک کے اندر اور باہر موجود غیر فعال دہشت گرد عناصر فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر عراق کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عراق اور اس کے عوام کو مزید جنگ نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے کیونکہ مسلسل تنازعات نے ملک کے وسائل، معیشت اور قومی وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اپنے بیان کے اختتام پر مقتدیٰ الصدر نے خطے کے تمام ممالک سے امن، مفاہمت اور باہمی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کو غیر ملکی فوجی اڈوں، تعلقات کی جبری تبدیلی اور بیرونی مداخلت سے پاک ہونا چاہیے۔جبکہ عرب میڈیا کے مطابق عراق میں حملوں کے بعد عراقی قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں عراقی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی شریک ہوئے، اجلاس میں امریکی وسعودی حملوں کی مذمت کی گئی، اجلاس میں علاقائی کشیدگی میں کمی پر زور دیا گیا۔عراقی سلامتی کونسل کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ تمام دشمن اقدامات ناقابل قبول ہیں، دشمن اقدامات سے نمٹنا اور اس کا مقابلہ کرنا صرف عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے، اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرنے چاہئیں، عراق کو علاقائی تنازعات سے دور رہنا چاہیے۔دوسری جانب بحرین اور خلیجی تعاون کونسل نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے منسلک مسلح گروپوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانا علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور ایسے حملے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔دوسری جانب خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب کو مسلسل نشانہ بنانا ایک خطرناک اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔جاسم البدیوی نے مزید کہا کہ خلیجی تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہیں اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ادھر عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے ملک میں ہونے والے مہلک حملوں کے بعد اپنا طے شدہ دور سعودی عرب مؤخر کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ فوری طور پر کیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم علی فالح الزیدی جمعرات کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے تھے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونا تھے۔دریں اثناء یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کا ایک جاسوس ڈرون یمن کے شمالی صوبے صعدہ کی فضائی حدود میں مار گرایا ہے۔حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل طرز کے اس ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صعدہ گورنریٹ کی فضائی حدود میں مبینہ طور پر دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ یحییٰ سریع کے مطابق حوثی فضائی دفاعی یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو کامیابی سے تباہ کیا۔جبکہ عراق میں ایران نواز ملیشیا نے امریکی و سعودی عرب کے حملوں کا جواب دینے کو ضروری قرار دیدیا، ایک بیان میں کہا کہ وہ عراق کی خود مختاری کی حفاظت کرسکتے ہیں، ممکنہ جوابی حملے میں سعودی عرب میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے دشمن کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی اپیل کردی، ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں تاکہ ناانصافی اور ظلم کے سامنے سر نہ جھکائیں۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ جس طرح ہمیں دشمن کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے، اسی طرح ہمیں اپنے شہریوں کیساتھ بھی نا انصافی نہیں کرنی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مشکلات اور بیرونی دباؤ کے باوجود مزاحمت دکھائی۔قبل ازیں ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا۔ دوسری جانب چین نے رپورٹ کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوے مسترد کر دیا ۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے چین سے 300 سے 400 تک مین پیڈ فضائی دفاعی میزائل نظام خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، معاہدے کی مالیت 60 سے 70 ملین ڈالر ہو سکتی ہے۔رائٹرز کے مطابق ایران کو آئندہ ہفتوں میں کیو ڈبلیو 12 اور ایف این 16 طرز کے میزائلوں کی پہلی کھیپ موصول ہونے کا امکان ہے، معاہدہ ہانگ کانگ میں قائم ایک کمپنی کے ذریعے طے پایا۔خبرایجنسی کے مطابق ایران اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی رپورٹ کو بے بنیاد دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ ہمیشہ امن کے فروغ اور تنازعات کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔علاوہ ازیںچین نے یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ براہِ راست رابطے کر کے درخواست کی ہے کہ چینی تیل بردار جہازوں کو بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے محفوظ گزرنے کی ضمانت دی جائے تاکہ ان پر حملے نہ ہوں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ چین نے حوثیوں سے براہِ راست مذاکرات کیے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد سعودی عرب کی بندرگاہوں سے چین جانے والے تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب حوثیوں نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی جہاز سعودی بندرگاہوں سے سامان لوڈ یا اَن لوڈ کرے گا تو اسے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔قبل ازیںامریکی حکام کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد بیلسٹک میزائل داغے تاہم امریکی دفاعی نظام نے تمام میزائل کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا گیا کہ حملے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں تعینات تمام امریکی افواج محفوظ ہیں اور خطے میں ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔جبکہ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی دفاعی فورسز نے ایران سے داغے گئے پانچ میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔یہ اعلان امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے اس دعوے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے اردن کی سمت داغے گئے تمام میزائلوں کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا گیا۔ادھرایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس نے تین آئل ٹینکروں کو روک دیا ہے۔بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ہماری تنبیہ کے باوجود تین آئل غیر محفوظ اور غیر قانونی راستے پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے، چند گھنٹے قبل انھیں نشانہ بنا کر روک دیا گیا۔بیان میں ان آئل ٹینکروں کی شناخت یا ان کے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔علاوہ ازیںامریکا اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں مشترکہ حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیے جانے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.30 ڈالر یا 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 87.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔قبل ازیںبرطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران سے متعلقہ 8 ٹینکروں اور 10 شخصیات پر پابندیاں لگادی ہیں۔