معاشی سفارت کاری خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے، عرفان سومرو
کراچی (کامرس رپورٹر) وزارت خارجہ (موفا) لائژن آفس کراچی کے ڈائریکٹر جنرل محمد عرفان سومرو نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں صنعتی شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ صنعتی ترقی کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ( کاٹی) کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ علی، ، سی ای او کائیٹ لمیٹڈ سلیم الزماں ،سابق چیئرمین و صدور جنید نقی، شیخ عمر ریحان، فرخ مظہر، احتشام الدین سمیت دیگر صنعتکار اور ممبران بھی موجود تھے۔ محمد عرفان سومرو نے کہا کہ کاٹی ملکی برآمدات، زرمبادلہ کے حصول اور اقتصادی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ وزارت خارجہ کا کردار اب صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ معاشی سفارت کاری خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانے اور تجارتی مشنز نئی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری کے فروغ، پاکستانی مصنوعات کی تشہیر اور کاروباری روابط کے استحکام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔عرفان سومرو نے کہا کہ وزارت خارجہ کو جی ایس پی پلس، آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جس میں وزارت فعال کردار ادا کر رہا ہے ، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موافق ملک قرار دیا جارہا ہے، بین الاقوامی ادارے جیسے ایس اینڈ پی اور فیچ ریٹنگ مسلسل پاکستان کی درجہ بندی بہتر بنا رہی ہے اس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی دن رات محنت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ افریقہ، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت نئی عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ وزارت خارجہ اپنے سفارتی مشنز کے ذریعے کاروباری برادری کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ڈی جی موفا لائڑن آفس کراچی نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی معلومات سفارت خانوں تک پہنچائیں تاکہ انہیں متعلقہ ممالک میں مؤثر انداز سے متعارف کرایا جا سکے، اس سلسلے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی، اگر صنعتکاروں کو مسائل درپیش ہوں تو وہ ڈائریکٹر جنرل کراچی آفس سے رابطہ کریں تو ذاتی دلچسپی لے کر براہ راست سفیروں سے رابطہ کے لیے اقدامات کریں گے۔محمد عرفان سومرو نے کہا کہ کاٹی اور وزارت خارجہ کے درمیان رابطہ کے لیے متعلقہ افسر تعینات کیا جائے گا جو کاٹی کے ممبران کو درپیش مسائل حل کرے گا۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ڈیسک کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ برآمد کنندگان کو نئی منڈیوں، درآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں تک آسان رسائی حاصل ہو،کیونکہ اب وقت معاشی سفارتکاری کا ہے۔صدر کاٹی نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی تجارتی نمائشوں، ایکسپوز اور بزنس فورمز میں پاکستانی صنعتکاروں کی مؤثر شرکت کے لیے سفارتی سطح پر سہولت فراہم کی جائے، مختلف ممالک کے ساتھ کاروباری ویزوں کے حصول کا عمل آسان بنایا جائے اور افریقہ، وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکہ سمیت غیر روایتی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے خصوصی سفارتی اقدامات کیے جائیں۔محمد اکرام راجپوت نے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مقامی چیمبرز کے ساتھ بی ٹو بی ملاقاتوں، تجارتی تنازعات اور ادائیگیوں کے مسائل میں فوری معاونت، سرمایہ کاری کے مواقع اور اسپیشل اکنامک زونز کی مؤثر تشہیر، وزارت خارجہ، وزارت تجارت، ٹڈاپ اور صنعتی انجمنوں کے درمیان مستقل مشاورتی نظام کے قیام اور کاٹی میں دستاویزات کی تصدیق کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک یا فوکل پرسن مقرر کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، تجارت اور سفارت کاری کے درمیان مضبوط اشتراک ہی برآمدات، زر مبادلہ کے ذخائر اور قومی معیشت کے استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافے اور صنعتی ترقی کے لیے معاشی سفارت کاری کو مزید فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ اور صنعتی شعبے کے درمیان قریبی رابطے ضروری ہیں تاکہ برآمدی منڈیوں میں درپیش مسائل کو حل کیا جائے،، صنعتکاروں کے مسائل کا بروقت حل، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی اور سفارتی مشنز کے ذریعے کاروباری روابط کے فروغ سے ملکی صنعت کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کے کمرشل اتاشیوں کا کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے، بدقسمتی سے اب تک صنعتکاروں کو دیگر ممالک میں تعینات پاکستانی سفارتخانوں کے کمرشل اتاشی رابطہ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی برآمدات 31 ارب ڈالر سے نہیں بڑھ رہی۔ زبیر چھایا نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی بھی ملک کا اثاثہ ہیں اور ان کی جانب سے بھیجی گئیں ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں جو مجموعی برآمدات سے زائد ہے، وزارت خارجہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں خصوصی توجہ دے۔ تقریب میں سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہٰ علی، سی ای او کائیٹ لمیٹڈ سلیم الزماں، احتشام الدین، سید فرخ مظہر، شیخ عمر ریحان سمیت جنید نقی، فاروق افضل، ناصر شیخ، عامر یوسف اور دیگر صنعتکاروں نے بھی صنعت کو درپیش مسائل، برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری، تجارتی سہولتوں اور معاشی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔