گڈگورننس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے‘ کچھ کرنا ہوگا‘ ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ گڈ گورننس کے بغیر مسائل حل نہیں ہونگے،کچھ کرنا ہوگا۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق خاص ہے، اسٹریٹجک تعلق ہے۔ سعودی عرب سے ہماری جذباتی وابستگی ہے۔پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق خاص ہے، سعودی عرب خادم حرمین الشریفین ہے، پاکستان محافظ حرمین الشریفین ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یو اے ای برادر ملک ہیں، دونوں کے بڑے گہرے تعلقات ہیں، پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات پر سوشل میڈیا پر غیرمنطقی معروضات دی جاتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی دو ملک ایسے نہیں ہوتے جن کا ہر چیز پر نقطہ نظر ایک ہو، پروپیگنڈا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا، کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔پریس بریفنگ کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز ہے ہم پاکستانی ہیں،پاکستان ہمارا ہے، پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کا اٹوٹ انگ ہیں، کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ پکاہے،بھارت نے کچھ توکرناہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ کے قریب سیکورٹی فورسز لگائی ہوئی ہے، 2019 میں بھی طبیعت صاف کی تھی،2025 میں تو اگلی پچھلی طبیعتیں صاف ہوگئیں، مقبوضہ کشمیر کے لوگ ان سے پوچھ رہے ہیں پہلگام میں تمہاری سیکورٹی کدھر تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں حقوق کے نام پر گیم چلائی گئی، مقاصد کچھ اور تھے، جو سامنے آچکے، 12 سیٹوں کے معاملے پران کاایجنڈا واضح ہوگیا۔ کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین کو نمائندگی نہیں دینی چاہیے، مظاہرین ڈنڈے کے زور پر مہاجرین کی نشستیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے اور دوسری جانب آپ تقاریر میں پاکستان کو قابض فوج کہہ رہے ہیں، یہ بتائیں اسی فوج میں ایک لاکھ تو کشمیری شامل ہیں، کتنے پاکستانی مجاہدین اور پاکستانی فوجی افسران نے کشمیر میں جاکر شہادت دی ہے آپ انہیں قابض فوج کہہ رہے ہیں، فوج کا اس معاملے سے کوئی تعلق بھی نہیں، یہ معاملہ آزاد کشمیر پولیس کا ہے، سب انسپکٹر نعیم کشمیری ہے اس کی زندہ حالت میں آنتیں نکال دیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا ہے کا کہنا ہے کہ گڈگورننس پاکستان کیلیے بہت ضروری ہے، گڈگورننس کیلیے کچھ کرنا پڑے گا۔وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر داخلہ کا صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس پر بیان ان کی ذاتی رائے ہے، اس پر بات نہیں کروں گا تاہم گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔انہوںنے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے14نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان کی سیکورٹی کیلیے گڈگورننس انتہائی اہم ہے، مسائل حل نہیں ہورہے، اس کا مطلب ہے گڈ گورنرنس کیلیے کچھ کرنا پڑے گا،گڈ گورننس کے بغیر ملک کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہم نے نہیں، عوام نے کرنا ہے، اچھی حکمرانی کے بغیر معاملات بہتر نہیں ہوسکتے، اچھی حکمرانی کیلیے ری سیٹ کی ضرورت ہے تو پھر اسے ہوجانا چاہیے۔احمد شریف کا کہنا تھا کہ 1972 میں ملک کی آبادی 6 سے 7 کروڑ اور آج 25 کروڑ ہے۔ آبادی 4 گنا بڑھ گئی مگر صوبے 4 ہی ہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کیا یہ اچھی حکمرانی کیلیے بہتر ہے۔ گڈگورننس پاکستان کیلیے بہت ضروری ہے۔ اسے بہتر کیسے بنانا ہے یہ فیصلہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے اور یہ سب پاکستان کے لوگوں کی مرضی سے ہونا چاہیے کیونکہ عوام کی مرضی سپریم ہے۔ احمد شریف چودھری کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں، معرکہ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان میں نظریں جمائی گئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آج ہمیں بلوچستان کے بنیادی مسئلے پر پہنچنا ہے، صوبے کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، ایلیٹ اور سردار کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہییں، ان کو اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کے لیے لیویز فورس چاہیے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گروں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے اور اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں اور ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ کیا حقوق کی بات کرنے والے اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل اسمگلنگ کرتے ہیں، سردار چاہتے ہیں 1000 ارب کے بجٹ میں حصہ ملے لیکن نہیں دیں گے، سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کروائیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردار ہوں، انہیں مسئلہ ہے کہ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا جبکہ بلوچستان کے عوام ہی اصل میں صوبے کے اسٹیک ہولڈرز ہیں، یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کے لیے پرمٹس مانگتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہے یا نہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 5 بالکل واضح کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون سب کے لیے یکساں ہے، آئین و قانون کے مطابق سب معاملات کو دیکھنا ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *