یوکرین: روسی حملے میں امریکی ڈرون کمپنی تباہ
کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرینی دارالحکومت پر روسی حملے میں ڈرون بنانے والی ایک امریکی کمپنی تباہ ہوگئی۔ امریکی ڈرون کمپنی ٹرمینل کی بنیاد ڈیلاویئر میں 2023 ء میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی مصنوعی ذہانت اور روسی الیکٹرانک جنگ کے خلاف دفاعی رہنمائی کے نظام کے ساتھ طویل فاصلے تک ڈرون تیار کرتی ہے۔ اگرچہ روسی حملے میں کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا ۔ ادھر روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے کیف کے جنوب مغربی حصے میں ڈرون کو جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کی ایک جگہ پر حملہ کیا تھا، جہاں ہر ماہ سیکڑوں ڈرون تیار کیے جاتے تھے۔ تاہم وزارت نے کمپنی کا نام نہیں بتایا۔ یہ حملہ روسی فوج کی جانب سے جان بوجھ کر کسی امریکی کمپنی کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ ہے۔دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین پر کیے گئے میزائل حملوں میں شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق روس نے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں میں استعمال ہونے والے بعض میزائل ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کی حتمی شناخت کی جا سکے۔ اس سے قبل ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی اپنی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا تھا کہ روس نے حالیہ حملوں کے دوران شمالی کوریا کے فراہم کردہ میزائل استعمال کیے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ روس پر شمالی کوریا کے ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی یوکرین اور مغربی ممالک روس پر شمالی کوریا سے میزائل اور دیگر عسکری سامان حاصل کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ روس نے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ شمالی کوریا بھی متعدد مواقع پر مغربی ممالک کے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالیہ دعوؤں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق عالمی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں، جبکہ یوکرین جنگ کے سفارتی اور عسکری اثرات بھی مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔