ٹنڈو جام، زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلبہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے
ٹنڈو جام(نمائندہ جسارت)زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی انتظامیہ نے طلبہ احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے فیسوں میں اضافہ واپس طلبہ کے مطالبات ماننے کا اعلان طلبہ کا جشن۔ تفصیلات کے مطابق سندھ زرعی یونیورسٹی طلبہ ٹنڈوجام کے طلبہ نے یونیورسٹی کی جانب سے ایک دم فیسوں میں نو ہزار اضافہ کردیا تھا جس پر تمام طلبہ اور طلبہ تنظیموں نے ایک شاگرد اتحاد بنا کر اس کے خلاف تحریک شروع کی اور اس سلسلے میں طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے طلبہ کے اتنے بڑے دھرنے اور جائز مطالبات کو دیکھ کر آخرکار یونیورسٹی انتظامیہ کو اس احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور طلبہ کے تمام مطالبات ماننے کا اعلان کر دیااور طلبہ کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے سمسٹر فیس میں 9 ہزار روپے کی کمی کر دی جو اس نے اضافہ کیا تھا۔ پروفیسر اعجاز علی کونہارو کی سربراہی میں قائم کمیٹی اور طلبہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے مذاکرات کے نتیجے میں سمسٹر کی داخلہ فیس میں کیا گیا 9 ہزار روپے کا اضافہ عارضی طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیاانتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ فیس میں کیے گئے اضافے کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے معاملہ اکیڈمک کونسل سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گااس کے علاوہ ہاسٹلز میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے حیسکو حکام سے رابطے کی غرض سے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبہ کو ہفتے میں چار دن شام کے وقت حیدرآباد جانے کے لیے پوائنٹ بس کی سہولت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہیڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیٔرز کی جانب سے تمام فیصلوں کے تحریری منٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں ان مطالبات کی منظوری کے بعد انھیں ان کا اعلان پروفیسر اعجاز علی کونہارو نے احتجاجی دھرنے کے سامنے کیا اور اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاجس پر تمام طلبہ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طلب علموں رہنماوں نے اپنی احتجاجی تحریک کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا اور اس موقع پر طلبہ نے میں خوشی کی لہر اور جشن کا سماں تھاطلبہ کا کہنا تھا جب تک کسی ظلم کے خلاف متحد ہو کر مقابلہ نہیں کیا جائے گا ان کے ساتھ ظلم ہوتا رہے گا سندھ زرعی یونیورسٹی کے طالب علموں کی جدوجہد پورے سندھ اور ملک کے لیے ایک مثال بن گئی ہے۔