جیکب آباد کے بارڈر راستے اسمگلروں کی من مانیوں کا گڑھ بن گئے
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد کے بارڈر راستے اسمگلروں کی من مانیوں کا گڑھ بن گئے! مانجھی پور، لوہی پل اور RD-44 سے غیر ملکی سامان کی اسمگلنگ عروج پر،دن رات غیر ملکی ممنوعہ سامان کی بے خوف منتقلی جاری؛ کسٹم حکام اور انتظامیہ کی خاموشی پر سنگین سوالات،سرحدی راستوں پر اسمگلنگ مافیا کا راج؛ قومی خزانے کو اربوں کا نقصان، کسٹم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس یا شراکت دار؟اہلِ جیکب آباد اور تاجروں کا چیف کلیکٹر کسٹم، ڈی جی رینجرز اور اعلیٰ حکام سے اسمگلنگ کے ‘سیف روٹس’ کی فوری ناکا بندی اور سخت ایکشن کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلع جیکب آباد کے سرحدی اور حساس راستے غیر قانونی و غیر ملکی سامان کی اسمگلنگ کے لیے آسان ترین ‘سیف روٹ’ میں تبدیل ہو چکے ہیں! مانجھی پور، لوہی پل اور آر ڈی 44 کے علاقوں سے دن رات غیر ملکی ممنوعہ سامان کی بلاروک ٹوک اسمگلنگ جاری ہے، جبکہ کسٹم حکام اور مقامی انتظامیہ اسمگلر مافیا کے خلاف کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام و قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، بلوچستان سے منسلک سرحدی علاقوں مانجھی پور، لوہی پل اور آر ڈی 44 کے راستوں کو استعمال کرتے ہوئے اسمگلر مافیا روزانہ لاکھوں اور کروڑوں روپے مالیت کا غیر ملکی ممنوعہ سامان، ڈیزل، چھالیہ، سگریٹ، کپڑا اور دیگر اشیاء جیکب آباد کے راستے اندرونِ ملک منتقل کر رہا ہے۔ اسمگلروں کی تحویل میں موجود سرف، پک اپ اور بڑی گاڑیاں دن کے اجالے اور رات کی تاریکی میں کھلے عام ان راستوں سے گزرتی ہیں، لیکن انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔اس بلاروک ٹوک غیر قانونی دھندے سے ایک طرف جہاں ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور قومی خزانے کو روزانہ کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہی دوسری جانب مقامی تاجر برادری کا قانون پسند کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔جیکب آباد کے سماجی حلقوں نے شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ان مخصوص راستوں سے ممنوعہ سامان کی آمد و رفت سب کے علم میں ہے، تو پھر کسٹم ڈیپارٹمنٹ اور بارڈر چیک پوسٹوں پر تعینات عملہ خاموش تماشائی کیوں بنا ہوا ہے؟ کیا کسٹم حکام کی یہ لاپرواہی محض نااہلی ہے یا پھر اسمگلنگ مافیا کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ؟جیکب آباد کی سول سوسائٹی، تاجر اتحاد اور شہریوں نے چیف کلیکٹر کسٹم سندھ، ڈی جی رینجرز سندھ اور ایس ایس پی جیکب آباد سے فوری اور سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:مانجھی پور، لوہی پل اور RD-44 کے تمام چور راستوں پر کسٹم اور رینجرز کی ہنگامی چیک پوسٹیں قائم کر کے سخت اسنیپ چیکنگ شروع کی جائے اسمگلنگ کے اس کھلے روٹ پر آنکھیں بند کرنے والے کسٹم آفیسرز اور اہلکاروں کے خلاف فوری تحقیقات کر کے انہیں عہدوں سے ہٹایا جائے۔غیر ملکی ممنوعہ سامان کی منتقلی میں ملوث مرکزی نیٹ ورک اور گاڑیوں کو ضبط کر کے ذمہ داران پر ملک دشمنی اور اسمگلنگ کے مقدمات درج کیے جائیں۔