اسرائیلی فضائی حملوں میں تیزی‘ 18 فلسطینی شہید‘ متعدد زخمی۔جنوبی لبنان میں ممنوعہ فاسفورس بم برسا دیے
غزہ /بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد میں پیش رفت کے اعلان کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے حالیہ بمباری کرکے بچوں سمیت مزید 18 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں 5 لبنانی فوجی زخمی ہوگئے‘ 3 روز میں شہدا کی تعداد 28 ہوگئی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور جبالیہ میں گھروں پر فضائی حملے کیے جب کہ اس دوران طبی مراکز اور ادویات کے گودام کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ غزہ وزارت صحت نے اسپتالوں پر حملے جنگی جرم قرار دے دیا۔قابض اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے خلاف ملٹری آپریشن کے نام پر لبنان کے جنوبی علاقوں میں بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر رات گئے وائٹ فاسفورس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں زیتون کے باغ اور صنوبر کے جنگلات میں آگ لگ گئی۔ سرکاری نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسرائیلی فورسز نے جن علاقوں کو سفید فاسفورس کے گولوں سے نشانہ بنایا، اُن میں یارون، ہارون اور بنت جبیل شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی رات ایک بجے کے فوراً بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے نبطیہ الفوقہ کے مضافاتی علاقے پر بھی فضائی حملہ کیا جبکہ ایک اسرائیلی ڈرون نے بیوت الصیاد کے مقام پر ایک صوتی بم بھی گرایا۔