جامعہ کراچی، 72 مکانات ریٹائرڈ ملازمین اور اہل خانہ کے زیر قبضہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)جامعہ کراچی میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ اور واگزاری کے نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق کم از کم 72مکانات ریٹائرڈ ملازمین، مرحوم ملازمین کے اہل خانہ اور بعض دیگر افراد کے زیرقبضہ ہیں جب کہ فارن فیکلٹی گیسٹ ہائوس میں 2ملازمین کئی برس سے رہائش پذیر ہیں اور ایک مکان بیوروکریٹ کے زیر استعمال ہے۔ 3 مکانات پر سیکورٹی افسران نے قبضہ کر رکھا ہے۔ جامعہ کے قواعد کے تحت ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ایک سال تک سرکاری مکان میں رہنے کی اجازت ہے لیکن دستیاب سرکاری فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجنوں افراد قانونی مدت ختم ہونے کے کئی کئی برس بعد بھی مکانات خالی کرنے کو تیار نہیں۔ بعض کیسز میں غیرمجاز قیام کی مدت 18 سال سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ متعدد سابق پروفیسرز اور افسران 9 سے 10 سال سے غیرقانونی طور پر سرکاری رہائش استعمال کررہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق جامعہ کراچی کے اسٹیٹ آفس نے متعلقہ قابضین کو مکانات خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں تاہم بیشتر نوٹس بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حاضر سروس اساتذہ، افسران اور ملازمین رہائش گاہوں کے منتظر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائشی کالونی کے متعدد مکانات میں بجلی اور گیس کے انفرادی میٹر نصب نہیں جس کے باعث استعمال ہونے والی بجلی اور گیس کا بوجھ براہ راست جامعہ پر پڑرہا ہے۔ بعض گھروں میں کئی کئی ائرکنڈیشنرز چلائے جانے کی اطلاعات بھی ہیں لیکن جامعہ انتظامیہ نے اب تک نہ مکمل توانائی آڈٹ کرایا اور نہ ہی غیرمجاز استعمال کی رقم متعلقہ افراد سے وصول کی۔ فہرست کے مطابق اشفاق وارثی مکان نمبر SD-46 میں 2007ء سے مقیم ہیں اور ان کی مجاز مدت 2008ء میں ختم ہوچکی تھی، اس حساب سے وہ تقریباً 18 سال سے قانونی مدت ختم ہونے کے باوجود مکان استعمال کررہے ہیں جو فہرست میں سب سے طویل غیرمجاز قیام ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *