سندھ میں بارشوں نے حکومتی و انتظامی نااہلی کو بے نقاب کر دیا‘کاشف سعید شیخ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں ہونے والی حالیہ شدید بارشوں نے صوبے میں گزشتہ 18 برس سے برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی حکومت کی کارکردگی، انتظامی نااہلی اور بدعنوانی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی الرٹس اور بارشوں کی پیش گوئی کے باوجود حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات ، نالوں اور نکاسی آب کے نظام کی صفائی نہ کرانا اور متعلقہ اداروں کی غفلت عوام کے لیے شدید مشکلات اور جانی و مالی نقصانات کا سبب بنی۔ انہوں نے آج ایک بیان میں کہا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین اور دیگر متعدد شہروں میں سڑکیں، گلیاں اور رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، گھروں میں بارش کا پانی داخل ہونے سے شہری مشکلات سے دوچار ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیاں، تعلیمی نظام اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ کئی مقامات پر حادثات کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی انتہائی افسوسناک۔انہوں نے کہا کہ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، مگر جب حکمران اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں، شہری منصوبہ بندی کا فقدان ہو، نکاسی آب کا نظام تباہ حال ہو اور کرپشن ترقیاتی منصوبوں کو کھا جائے تو یہی نعمت عوام کے لیے زحمت بن جاتی ہے۔ ہر سال بارشوں کے موسم میں سندھ کے شہری اسی طرح کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، مگر حکومت نہ تو ماضی سے سبق سیکھتی ہے اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر کوئی مؤثر حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ پہلے ہی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھاری نقصان اٹھا چکا ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری تھی کہ ممکنہ بارشوں سے قبل ہنگامی اقدامات، مشینری کی فراہمی، نالوں کی صفائی، پانی کی نکاسی، ریسکیو اور ریلیف کے انتظامات کو یقینی بنایا جاتا، لیکن افسوس کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا گیا۔صوبائی امیر نے بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں اور متاثرین کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے، نقصانات کا شفاف سروے کرایا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ بارشوں سے قبل نکاسی آب، شہری انفراسٹرکچر اور ہنگامی امدادی نظام کو بہتر بنانے کے لیے جامع اور مؤثر منصوبہ بندی کی جائے تاکہ عوام کو ہر سال ایسی اذیت ناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔