صرافہ بازار میں تجاوزات کے نام پر محض پسند نا پسند دیکھی گئی ، ابراہیم شیخ
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما پاکستان ضلع حیدرآباد کے نائب صدر محمد ابراہیم شیخ نے اپنے مذمتی بیان میں کہاہے کہ حیدرآباد صرافہ بازار میں انکروچمنٹ کے خاتمے کیلئے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں صرافہ یونین کے جنرل سیکریٹری کا رویہ بھی عام دکانداروں کیلئے قابل افسوس ہے جبکہ صرافہ بازار جمن شاہ کا پڑسے فقیر کے پڑ تک صرافہ بازار میں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ جوئیلرز والوں نے موٹر سائیکلوں کا شوروم قائم کیا ہوا ہے اور اپنی اپنی دکان کے آگے عارضی رکاوٹوں سے سڑک بند کی ہوئی ہے، اسی سڑک پر علاقہ مکینوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔میونسپل انتظامیہ اور ٹائون انتظامیہ کا عملہ صرافہ یونین کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے، صرافہ یونین کے جنرل سیکریٹری اپنی مرضی سے فیصلے کررہے ہیں اورعام دکانداروں کی بات نہیں سنی جارہی ہے۔ دوسری طرف تاجر غیر اعلانیہ طورپر بجلی کی بندش کے دورانیہ میں اضافہ، معاشی دبا، کاروباری بے چینی اور مہنگائی میں مسلسل اضافے کی وجہ مشکلات سے دوچار ہیں۔اس موقع پر ٹائون چیئرمین مصطفی بلال سے پرزور اپیل ہے کہ اس کا نوٹس لیکر صرافہ یونین اور دیگر تاجر یونین کا مشترکہ اجلاس طلب کریں تاکہ صرافہ شاہی بازار میں انکروچمنٹ کا مسئلہ احسن اندازمیں تمام یونینز کے اتفاق رائے سے حل کیا جائے۔