ڈیجیٹل نظام تعلیم سے صوبے میں تعلیم کی فراہمی مزید مؤثر ہوگی،سہیل آفریدی
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہر بچے تک عالمی معیار کی تعلیم پہنچانے کے لیے نظام تعلیم میں ڈیجیٹل انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ “پڑھو خیبر پختونخوا” منصوبے کے تحت صوبے کا مکمل نصاب ڈیجیٹلائز کیا جائے گا اور تمام درسی کتب طلبہ کو موبائل فون پر دستیاب ہوں گی جبکہ طلبہ انٹرنیٹ کے بغیر بھی کسی بھی وقت تعلیم حاصل کر سکیں گے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کے ذریعے ا سکول سے باہر لاکھوں بچوں کو تعلیمی دھارے میں لایا جائے گا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے دور دراز اور تعلیمی سہولیات سے محروم علاقوں کے بچوں تک بھی معیاری تعلیم پہنچائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف آئندہ دو برس کے دوران صوبے میں شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد اضافہ کرنا ہے، 5 ارب روپے کی ایک مرتبہ سرمایہ کاری سے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری محکمہ تعلیم کے بجٹ کے مقابلے میں معمولی مگر نتائج کے اعتبار سے انقلابی ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام تعلیم سے بالخصوص بچیوں کی تعلیم میں حائل جغرافیائی اور سماجی رکاوٹوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور صوبے میں تعلیم کی فراہمی مزید مؤثر، آسان اور کم لاگت بنائی جائے گی۔