ٹنڈو جام، زمینی تنازع پر زمیندار اور ہاریوں میں خونی تصادم
ٹنڈو جام (نمائندہ جسارت)زمین کے تنازع پر کشیدگی پولیس کی نے پورے علاقے کو گھیر لیا کہ کوئی خون ریز تصادم نہ ہو تنازعہ کو حل کرانے کے لیے انتظامیہ اور علاقے کے معزین سرگرم۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام کے قریب گاؤں مراد جمالی میں زمین کے پرانے تنازع پر ایک بار پھر زمیندار اور ہاریوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی جس کے باعث علاقے میں خونریز تصادم کا خدشہ پیدا ہوگیامقامی دیہاتیوں کے مطابق علاقے با اثر زمیندار نے اپنے مسلح افراد کے ذریعے زرعی زمین کے تنازعہ پرمبینہ طور پر گاؤں مراد جمالی، گاؤں مور جمالی اور گاؤں شمن جمالی کا محاصرہ کر لیا مسلح افراد کو دیکھ کر گائوں والوں نے ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ زمیندار ان کے آبائی دیہات اور موروثی زرعی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی نصف سے زائد زمین پہلے ہی چھینی جا چکی ہے جبکہ اب باقی ماندہ زمین اور دیہات پر بھی قبضے کی کوششیں کی جا رہی ہیںدیہاتیوں نے مزید الزام عائد کیا کہ محاصرہ کرنے والے مسلح افراد خطرناک جرائم پیشہ ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر تحفظ فراہم کیا جائے اس کشیدگی کی اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی کشیدگی کم کرنے کے لیے پولیس نے گاؤں کے معززین رئیس حنیف جمالی، شمن جمالی، سہراب خان جمالی سے مذکرات کیے پھر ایس ایچ او ٹنڈو جام کی موجودگی میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے مذاکرات کے دوران ایک فریق کے نمائندوں نے دو دن کی مہلت طلب کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی زرعی زمین پر رہیں گے اور اس دوران اسلحے کی نمائش نہیں کریں گے دوسری جانب زمیندار عادل جمالی نے بھی یقین دلایا کہ معاملے کا حتمی فیصلہ ہونے تک کوئی بھی فریق کسی قسم کی پیش قدمی یا اشتعال انگیز کارروائی نہیں کرے گا۔پولیس کے مطابق علاقے کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔