کراچی‘ لاہور میںپی ٹی آئی کا احتجاج‘پولیس کا لاٹھی چارج و شیلنگ‘کئی کارکنان زیر حراست ‘ بد ترین ٹریفک جام
کراچی /لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کی جانب سے کراچی اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاٹھی چارج کیا اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔کراچی میں پریس کلب کے اطراف پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا جبکہ کئی افراد کو گرفتار کرکے مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔ فوارا چوک پر پی ٹی آئی سندھ کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور متعدد پی ٹی آئی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا جن میں پی ٹی آئی رہنما مسرور سیال بھی شامل ہیں۔کراچی میں فوارہ چوک کے قریب تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کیا۔ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث گورنر ہاؤس، میٹروپول اور شاہین کمپلیکس کے اطراف بدترین ٹریفک جام ہوگیا، ایم آر کیانی روڈ سے فوارہ چوک تا دین محمد وفائی روڈ ٹریفک کے لیے بند رہا، کوسٹ گارڈ سے ریگل چوک تا سرور شہید روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند رہا۔ ایم ٹی خان روڈ سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک بند، زم زمہ اسٹریٹ، خیابانِ شمشیر آنے اور جانے والے دونوں ٹریک بند رہے، سر شاہ سلیمان روڈ، قبا مسجد غریب آباد تا لیاقت آباد دونوں ٹریک بند رہے۔پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسرور سیال کی گرفتاری پر پی ٹی آئی صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ تنازع کشمیر کے حوالے سے5 اگست کویومِ سیاہ کے پرامن احتجاج پر ڈاکٹر مسرور سیال سمیت پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، سندھ پولیس نے شہریوں کے آئینی حق احتجاج پر حملہ کیا ہے، یہ جمہوری اقدار کے منافی اقدام ہے، پیپلزپارٹی نے سندھ میں جمہوریت کے نام پر آمریت قائم کر رکھی ہے، سیاسی کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پولیس نے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ کارروائی کے دوران متعدد کارکنان کو حراست میں لیا گیا جبکہ رکنِ پنجاب اسمبلی اویس ورک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق ایوانِ عدل کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تناؤ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاجی شرکا کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ادھر پی ٹی آئی رہنماؤں نے لاہور اور کراچی میں ہونے والی پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں پرامن احتجاج کے حق پر قدغن اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے ۔