خواتین مہنگائی کے باعث شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں،صفیہ شعیب بھٹو
حیدرآباد(نمائندہ جسارت) ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی ضلع مٹیاری صفیہ شعیب بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرولیم لیوی، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ آسائشیں تو درکنار، لاکھوں خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر مسلسل لیوی اور دیگر ٹیکسوں کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے خورونوش، ادویات، زرعی اخراجات اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب، مزدور، کسان، سفید پوش طبقے اور گھریلو خواتین برداشت کر رہی ہیں، جبکہ عوام کی آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہونی چاہیے، مگر بدقسمتی سے عوام کو سہولت دینے کے بجائے مسلسل نئے مالی بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ ایسے فیصلے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ غربت، بے روزگاری اور سماجی بے چینی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی اور عوام دشمن ٹیکسوں پر نظرثانی کرے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا سختی سے سدباب کرے، اور کم آمدنی والے طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ خواتین، جو گھر کے محدود بجٹ میں پورے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مہنگائی کے باعث شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں اختیار کرے جن سے عام آدمی کی زندگی آسان ہو، نہ کہ مزید مشکلات میں اضافہ ہو۔