بنگلا دیش میں سیاستدان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر حاضر سروس بریگیڈیئر گرفتار

ڈھاکا(صباح نیوز) بنگلا دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں ہونے والے ایک ہائی پروفائل مبینہ ماورائے عدالت قتل کے مقدمے میں حاضر سروس بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد کو گرفتار کر کے فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔بنگلا دیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے فوجی تحویل میں رکھا گیا ہے۔یہ مقدمہ 2018 ء میں حسینہ واجد حکومت کی جانب سے شروع کی گئی متنازع انسداد منشیات مہم کے دوران کاکس بازار کے مقامی سیاستدان اور کونسلر اکرم الحق کی ہلاکت سے متعلق ہے۔اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ اکرم الحق منشیات کا بڑا سرغنہ تھا اورسیکورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تاہم ان کی اہلیہ عائشہ اختر کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ نے اس سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھا دیے تھے۔آڈیو میں اکرم الحق کو ہلاکت سے چند لمحے قبل اپنی اہلیہ اور بیٹی سے فون پر بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ گفتگو کے دوران فائرنگ کی آوازیں آتی ہیں اور اس کے بعد فون منقطع ہو جاتا ہے۔ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد بنگلا دیش میں شدید ردعمل سامنے آیا اور سیکورٹی فورسز پر جعلی مقابلوں کے ذریعے شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات عاید کیے گئے۔اب بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے اکرم الحق کی ہلاکت سے متعلق شکایت منظور کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ کیس میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، ایک سابق پولیس چیف، بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد سمیت چھ حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران سمیت مجموعی طور پر 11 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 2018 ء کی انسداد منشیات مہم کے دوران سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 466 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے جعلی مقابلوں کا نتیجہ تھیں۔مہم کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے الزامات کے باعث امریکا نے 2021ء میں بنگلا دیش کی ایلیٹ فورس ریپڈ ایکشن بٹالین اور اس کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں پر پابندیاں عاید کی تھیں۔بنگلا دیش میں اسے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ ماضی کے مبینہ جعلی مقابلوں کے مقدمے میں فوج کے ایک سینئر حاضر سروس افسر کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *