سوشل سیکورٹی فنڈز اور گورننگ باڈیز: بیوروکریسی یا زمینی حقائق؟
کراچی چیمبر آف کامرس (KCCI) اور دیگر صنعتی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ گورننگ باڈیز میں اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت روایتی سیاست سے ہٹ کر ’’تکنیکی مہارت‘‘ (Technical Expertise) کو ترجیح دیں۔ بورڈز میں ایسے افراد کا ہونا ناگزیر ہے جن کے پاس محکمے کے اندر کام کرنے کا دہائیوں کا تجربہ ہو، جو کنٹری بیوشن کے آڈٹ کو سمجھتے ہوں، اور جو سوشل سیکیورٹی اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے انتظامی معاملات سے واقف ہوں۔ جب تک بورڈ میں ایسے ماہرین موجود نہیں ہوں گے، تب تک سوشل سیکورٹی انسپکٹرز کی من مانیوں کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں نظام کی بہتری کے لیے ایک ٹھوس اور قابلِ عمل تجویز یہ ہے کہ سیسی فاؤنڈیشن کے انتہائی تجربہ کار (حاضر سروس و ریٹائرڈ) ملازمین اور گورننگ باڈی کے ارکان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی ’’کور کمیٹی‘‘ (Core Committee) بنائی جائے۔ یہ کمیٹی سیسی (SESSI) کی موجودہ مینجمنٹ کی تکنیکی اور انتظامی معاونت کا فریضہ انجام دے۔ اس مشترکہ کور کمیٹی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جہاں ایک طرف انتظامی معاملات میں شفافیت آئے گی، وہیں دوسری طرف محنت کشوں کے مالیاتی مسائل اور میڈیکل کے پیچیدہ امور کو زیادہ بہتر اور تیز رفتار طریقے سے حل کیا جا سکے گا۔ یہ تجربہ کار افسران اپنے طویل مشاہدے کی بنیاد پر بیوروکریسی اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ سندھ میں صنعتیں پھلے پھولیں اور محنت کشوں کو ان کا اصل حق ملے، تو ہمیں ان گورننگ باڈیز کو محض کاغذی کارروائی اور ذاتی اثر و رسوخ کے استعمال سے نکال کر ایک فعال، جوابدہ اور پیشہ ورانہ فورم بنانا ہوگا۔ چیمبرز کو اپنے دفاع کے لیے موزوں اور تجربہ کار لوگوں کو آگے لانا ہوگا، ورنہ اربوں روپے کے فنڈز اسی طرح بیوروکریسی اور بے جا مداخلت کی نذر ہوتے رہیں گے اور مزدور اسپتالوں میں ادویات کو ترستا رہے گا۔
اس سلسلے میں سیکرٹری لیبر سندھ کو چاہیے کہ نئی آنے والی گورننگ باڈی و بورڈ میں تجربہ کار ممبر کا انتخاب کریں تاکہ مستقبل میں یہ عدالت میں چیلنج نہ ہوسکیں اور اداروں میں استحکام پیدا ہو اور محنت کشوں کی آواز بن سکیں۔
(ختم شد)