اقوامِ متحدہ کی سیکرٹری جنرل کی دوڑ: کوسٹا ریکا کی ربیکا گرنسپین سب سے آگے
نیویارک (صباح نیوز)اقوامِ متحدہ کی سیکرٹری جنرل کی دوڑکیلیے7امیدواروں میں3خواتین امیدوار نمایاںہیں۔کوسٹا ریکا کی ایک سفارت کار اور سابق نائب صدر، ربیکا گرنسپین کے والدین ہولوکاسٹ کے پناہ گزین تھے، اقوامِ متحدہ (UN) کی پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بننے کی دوڑ میں حیران کن طور پر سب سے آگے نکل آئی ہیں۔ ہولوکاسٹ کے پناہ گزین والدین کے ہاں پیدا ہونے والی کوسٹا ریکا کی سفارت کار اور سابق نائب صدر ربیکا گرنسپین اقوامِ متحدہ (UN) کا اگلا سیکرٹری جنرل بننے کی دوڑ میں حیران کن طور پر سرفہرست آ گئی ہیں۔ موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی دوسری مدتِ ملازمت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے، اور علاقائی باری کے اصول کے تحت ان کے جانشین کا تعلق لاطینی امریکا سے بنتا ہے۔ اگر گرنسپین منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ اقوامِ متحدہ کی پہلی یہودی سیکرٹری جنرل ہوں گی۔ اقوامِ متحدہ پر اپنے مباحثوں میں اسرائیل پر حد سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، لیکن گرنسپین نے اپنے یہودی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے تنازعات کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس منصب کے لیے انتخاب کا حتمی عمل اس سال کے آخر تک مکمل ہونا ہے۔ سیکرٹری جنرل کو ابتدائی طور پر چار سالہ مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے جب 193 رکنی جنرل اسمبلی سے سلامتی کونسل کی سنگل سفارش کی توثیق کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ کسی بھی امیدوار کو 9 مثبت ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور سلامتی کونسل کا کوئی بھی رکن ویٹو نہ کرے۔ نئے امیدوار کا انتخاب سال کے آخر تک ہونا ضروری ہے، اور رائے جانچنے کے لیے سلامتی کونسل کے مزید اجلاس ہوں گے۔