عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، علیمہ خان

راولپنڈی (صباح نیوز) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے، ہم کسی سرکاری افسر یا فرد کا نام نہیں لیں گے، ملاقات کے بعد ہم نے کبھی سیاسی گفتگو نہیں کی، بانی پی ٹی آئی ہمارے بھائی ہیں اور ان کا پیغام ہمارے لیے اہم ہے۔اڈیالہ جیل کے فیکٹری ناکے پر اپنی بہنوں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے ہمیں ہر ہفتے امید ہوتی ہے کہ ملاقات ہوجائے گی لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے لیے ہائیکورٹ کے 3رکنی بینچ کا فیصلہ موجود ہے، اس کے باوجود جیل سپرنٹنڈنٹ کو درخواست دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔علیمہ خان نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں ’’ٹاؤٹس‘‘ کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول ایسی خبروں میں صرف یہ بتایا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا ہے جبکہ انہیں خدشہ ہے کہ پہلے صحت سے متعلق معمولی نوعیت کی خبریں پھیلائی جائیں گی اور بعد میں کسی بڑے نقصان کی خبر سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں صبح ایک خبر موصول ہوئی کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ختم کردیا گیا ہے، جبکہ بعض خبروں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور ہونٹ بھی کانپ رہے ہیں۔ علیمہ خان نے ان اطلاعات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی تو وہ ان کی صحت سے متعلق خبروں کی تصدیق یا تردید کیسے کر سکتی ہیں۔علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے بلڈ پریشر کی دوا کی خوراک دوگنی کردی گئی ہے۔ انہوں نے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جب عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ ہی نہیں تو دوا کی خوراک دوگنی کرنے کی بات کہاں سے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اندر سے جو بھی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، ان کی حقیقت واضح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں میں حقیقت ہوتی تو ان کی باضابطہ تصدیق سامنے آتی۔ ان کے مطابق خاندان کو عمران خان کی صحت کے بارے میں براہ راست اور مستند معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کی وجہ سے افواہوں اور قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ مارچ سے ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کا علاج ذاتی ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب خاندان کو عمران خان تک رسائی حاصل نہیں اور ان کی صحت کے بارے میں براہ راست معلومات نہیں دی جا رہیں تو وہ سوشل میڈیا یا میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کی تصدیق یا تردید کس طرح کر سکتے ہیں۔سیاسی صورتحال کے حوالے سے علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کبھی سیاسی گفتگو نہیں کی اور اگر انہیں ملاقات کی اجازت دی گئی تو وہ اس روایت کو برقرار رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سہیل آفریدی کے بیان سے متفق ہیں اور ملاقات کی صورت میں بھی سیاسی بات نہیں کریں گی۔انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے اور سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ سے منسوب آڈیو کے بارے میں سوال پر علیمہ خان نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے علم نہیں اور یہ ان کے لیے غیر متعلقہ معاملہ ہے۔علیمہ خان نے احتجاجی کال سے متعلق کہا کہ کال دینے کا اختیار پارٹی کا ہے اور پارٹی نے اپنی کال دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جو مصدقہ معلومات ملی ہیں ان کے مطابق ہائیکورٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کے لیے چار کتابیں بھیجی گئی تھیں اور چاروں کتابیں واپس آگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالات جس انداز سے تبدیل ہو رہے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ 27 ستمبر سے پہلے بھی لوگ سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے 14 اگست کے حوالے سے ڈی چوک کی کال کی بات بھی سنی ہے، تاہم 27 ستمبر کی تاریخ اپنی جگہ موجود ہے۔علیمہ خان نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ عمران خان سے ملاقات کے حق کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے اور عدالتی احکامات کے مطابق خاندان کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں واضح اور مستند معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کا سلسلہ ختم ہوسکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *