8216 8217

غزہ سے اسرائیلی انخلا حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہوگا، امریکی ‘بورڈ آف پیس’ کی اسرائیل کو یقین دہانی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ‘بورڈ آف پیس’ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا اس وقت تک شروع نہیں ہوگا جب تک حماس اپنے تمام ہتھیار مکمل طور پر غیر مؤثر یا حوالے نہیں کر دیتی۔ اس یقین دہانی کے بعد غزہ جنگ بندی منصوبے پر جاری سفارتی کوششوں میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

امریکی صدر نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ حماس نے اپنے ہتھیار ایک فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے اور اس کے بدلے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل میں اس منصوبے پر شدید بحث شروع ہو گئی تھی اور حکومتی حلقوں کی جانب سے مختلف اعتراضات سامنے آئے تھے۔

گزشتہ روز بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں جنگ بندی منصوبے، سکیورٹی خدشات اور غزہ کی آئندہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد بورڈ آف پیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بورڈ اور اسرائیل کے درمیان بنیادی اہداف اور سکیورٹی معاملات پر مشترکہ افہام و تفہیم پیدا ہو گئی ہے جبکہ اسرائیل کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس کے تحفظات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ غزہ میں موجود ‘یلو لائن’، جو ان علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں حماس کا اب بھی کنٹرول موجود ہے، اس سے آگے اسرائیلی فوج کا انخلا صرف اسی وقت ہوگا جب حماس اپنے وعدے کے مطابق مکمل طور پر غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل کر لے گی۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس منصوبے پر اعتراضات اٹھائے تھے جبکہ ان کی سکیورٹی کابینہ کے 2 ارکان نے امریکی تجویز کو مسترد کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے ووٹنگ کا مطالبہ بھی کیا تھا، ابتدائی مسودے میں اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کا ذکر کیا گیا تھا، جس پر مزید وضاحت کی ضرورت تھی۔

امریکی حکام کے مطابق منصوبے کے تحت اگر اسرائیل مرحلہ وار انخلا بھی کرتا ہے تو وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں طے پانے والی اکتوبر کی جنگ بندی مفاہمت کے مطابق غزہ کے اہم اور اسٹریٹجک علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا جبکہ سکیورٹی سے متعلق دیگر انتظامات بھی نافذ العمل رہیں گے۔

دوسری جانب حماس نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے سے متعلق طے شدہ امور پر بدستور کاربند ہے، وہ نکولے ملادینوف اور دیگر ثالثوں کی جانب سے طے پانے والے نکات پر باضابطہ اور واضح جواب کی منتظر ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *