ایران جنگ کے دوران امریکی میزائل ذخائر میں کمی، نئی رپورٹ سامنے آگئی
واشنگٹن: امریکا اور ایران کی جنگ کے دوران امریکی فوج کے جدید میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دفاعی امور سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث امریکا کے کئی اہم حملہ آور اور دفاعی میزائل بڑی تعداد میں استعمال ہو چکے ہیں، جس سے مستقبل کی عسکری صلاحیت پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم اور نئی نسل کے پریسیژن اسٹرائیک میزائل کے ذخائر تقریباً ختم ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع نے باقی ماندہ میزائلوں کی درست تعداد نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسلسل استعمال کے باعث یہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔ یہ دونوں میزائل دور دراز اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دفاعی ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ ایسے جدید میزائل کسی بھی بڑی جنگ، خصوصاً چین اور روس جیسے مضبوط فضائی دفاع رکھنے والے ممالک کے خلاف انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
اسی دوران رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صرف حملہ آور ہتھیار ہی نہیں بلکہ دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق فروری سے جولائی تک امریکا نے اپنے 65 فیصد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کر لیے، جبکہ تھاڈ نظام کے بیلسٹک میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز میں کم از کم 38 فیصد کمی آ چکی ہے۔
رائٹرز نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ بھی اپنے عالمی ذخیرے میں موجود تقریباً نصف ٹوماہاک کروز میزائل استعمال کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں گزشتہ ہفتے اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکا اپنے ہتھیاروں کے ذخائر برقرار رکھتے ہوئے کارروائیاں کیسے جاری رکھے گا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں اور دفاعی صنعت ریکارڈ رفتار سے اسلحہ تیار کر رہی ہے۔
اُدھر پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بھی کہا کہ امریکی فوج کے پاس دنیا میں کہیں بھی کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل بدستور موجود ہیں۔