سی ڈی اے کے شعبہ اسٹیٹ مینجمنٹ کی ٹائپو غلطی نے الاٹیز کی جیبیں خالی کر دیں دو سال میں کروڑوں کا ٹیکا لگا دیا گیا
اسلام آباد(رانا فرخ سعید): سی ڈی اے لین مارکنگ فیس سے متعلق دو برس پرانی ایک اہم غلطی سامنے آنے کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اپنا نوٹیفکیشن درست کر دیا۔ اس غلطی کے باعث متعدد الاٹیز سے مقررہ فیس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رقم وصول کی جاتی رہی، جس سے لاکھوں روپے کی اضافی وصولیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق اسٹیٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اگست 2024 میں لئین مارکنگ فیس 500 روپے سے بڑھا کر 15 ہزار روپے مقرر کی تھی، تاہم سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرتے وقت تحریری غلطی کے باعث رقم کے آخر میں ایک اضافی صفر شامل ہو گیا، جس کے نتیجے میں فیس 15 ہزار روپے کے بجائے ایک لاکھ 50 ہزار روپے درج ہو گئی۔
یہ غلطی تقریباً دو سال تک برقرار رہی اور اسی کے مطابق متعدد درخواست گزاروں سے فیس وصول کی جاتی رہی۔ حالیہ سی ڈی اے بورڈ اجلاس میں معاملہ سامنے آنے کے بعد اس کی باقاعدہ تصحیح کی گئی، جبکہ 7 اگست کو نیا نوٹیفکیشن جاری کرکے سی ڈی اے لین مارکنگ فیس دوبارہ 15 ہزار روپے مقرر کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق کچھ ایسے الاٹیز، جنہیں اس غلطی کا علم تھا، انہوں نے حلف نامہ جمع کروا کر صرف 15 ہزار روپے ادا کیے، تاہم بیشتر شہری لاعلمی کے باعث مکمل ایک لاکھ 50 ہزار روپے جمع کرواتے رہے۔
لین مارکنگ لیٹر دراصل بینک کی جانب سے جاری کیا جانے والا ایک سرکاری دستاویز ہوتا ہے، جس کے ذریعے یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ متعلقہ پلاٹ یا جائیداد بینک کے قرض کے عوض رہن رکھی گئی ہے۔ بعد ازاں اس دستاویز کو سی ڈی اے کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ الاٹیز کی جانب سے اضافی وصول کی گئی رقم کی واپسی اور ذمہ داران کے تعین سے متعلق بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے سی ڈی اے کی جانب سے تاحال کسی ریفنڈ یا مزید انتظامی کارروائی کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔