|

مصنوعی ذہانت سے نئے وائرس تیار، طبی میدان میں پیش رفت یا نیا خطرہ؟

واشنگٹن: امریکی سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایسے نئے وائرس نما جینیاتی ڈھانچے تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قدرتی طور پر پہلے کبھی موجود نہیں تھے۔ ماہرین اس پیش رفت کو مصنوعی جینومکس کے میدان میں اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ حیاتیاتی سلامتی سے متعلق خدشات پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

سائنسی جریدے Science میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور براڈ انسٹی ٹیوٹ (ایم آئی ٹی اور ہارورڈ) کے محققین نے ایک قدرتی بیکٹیریوفاج (Phage) کو بنیاد بنا کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہزاروں نئی جینیاتی ساختیں تیار کیں۔ بیکٹیریوفاج ایسے وائرس ہوتے ہیں جو صرف بیکٹیریا کو متاثر کرتے ہیں اور انسانوں یا جانوروں کو متاثر نہیں کرتے۔

محققین نے ان ہزاروں ڈیزائنز میں سے تقریباً 300 مصنوعی جینیاتی ساختیں لیبارٹری میں تیار کر کے ان کا تجربہ کیا، جن میں 16 مکمل طور پر فعال ثابت ہوئیں۔ تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض مصنوعی فاجز ای کولی (E. coli) بیکٹیریا کے خلاف قدرتی فاجز سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں اینٹی بایوٹک مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کے علاج کے لیے فاج تھراپی کو زیادہ مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت پیچیدہ جینیاتی ڈیزائن تیزی سے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے نئی طبی حکمت عملیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب متعدد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق کے طبی فوائد نمایاں ہیں، لیکن یہی ٹیکنالوجی غلط مقاصد کے لیے استعمال ہونے کی صورت میں حیاتیاتی سلامتی کے لیے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے میں مضبوط قوانین، نگرانی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے متعدی امراض کے ماہر آئزک بوگوچ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اینٹی بایوٹک مزاحمت رکھنے والے انفیکشنز کے علاج کے لیے مخصوص بیکٹیریوفاجز تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم مستقبل میں اسی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی پروفیسر فاطمہ وفائی نے واضح کیا کہ موجودہ تحقیق میں استعمال ہونے والے فاج صرف بیکٹیریا کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے اس تحقیق سے انسانوں کو براہِ راست کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ تاہم انہوں نے بھی ذمہ دارانہ نگرانی اور مؤثر ضوابط کی ضرورت پر زور دیا۔

امپیریل کالج لندن کے ماہر ٹام ایلس کے مطابق یہ تحقیق متاثر کن ضرور ہے، لیکن مصنوعی ذہانت ابھی کورونا وائرس جیسے پیچیدہ وائرسوں کی تیاری سے بہت دور ہے کیونکہ ان کے جینوم کہیں زیادہ بڑے اور پیچیدہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق طبی سائنس میں نئی امید پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ حیاتیاتی سلامتی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد بھی مستقبل کی اہم ضرورت ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *