یمن کے قریب بھارتی مال بردار جہاز حملے کے بعد سمندر برد
صنعا: بحیرۂ احمر میں یمن کے مغربی ساحل کے قریب ایک بھارتی مال بردار جہاز حملے کے بعد شدید نقصان اٹھانے کے نتیجے میں سمندر میں ڈوب گیا۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ جہاز کسی بارودی کشتی یا نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرایا، جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم تمام عملہ محفوظ نکال لیا گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا جبکہ عملے کے کئی ارکان زخمی بھی ہوئے۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کے فوراً بعد جہاز کے عملے نے ہنگامی اقدامات کیے اور قریبی بحری حکام کو امداد کے لیے اطلاع دی گئی۔
بحری سلامتی سے وابستہ اداروں نے بتایا کہ متاثرہ جہاز کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن نقصان زیادہ ہونے کے باعث وہ سمندر میں غرق ہو گیا۔
دوسری جانب زخمی عملے کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ ریسکیو کارروائی بھی بروقت مکمل کر لی گئی۔
اُدھر بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جہاز کسی نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آیا تھا، جس کے بعد وہ ڈوب گیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ جہاز میں سوار تمام افراد محفوظ ہیں اور انہیں بحفاظت نکال لیا گیا ہے، تاہم حملے کی نوعیت یا ذمہ دار عناصر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حالیہ مہینوں میں بحیرۂ احمر میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کے باعث شبہات اسی جانب کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ حوثیوں نے سعودی عرب سے وابستہ بحری نقل و حمل کو نشانہ بنانے اور باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس وقت آبنائے ہرمز کے ساتھ بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتحال عالمی تیل و گیس کی ترسیل پر بھی نمایاں اثرات ڈال رہی ہے۔