سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا تین سطحوں پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ
کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں پیش آنے والے المناک کوئلہ کان حادثے کی جامع تحقیقات کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین مختلف سطحوں پر انکوائری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات، ممکنہ غفلت، حفاظتی اقدامات کی صورتحال اور ذمہ دار عناصر کا تعین شفاف انداز میں کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق سورینج کوئلہ کان حادثے کی تحقیقات کورٹ آف انکوائری، محکمانہ انکوائری اور وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کے ذریعے کی جائیں گی۔ تینوں فورمز کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ حادثے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
حکومت نے ہدایت کی ہے کہ تحقیقات کی رپورٹس 15 روز سے ایک ماہ کے اندر مکمل کرکے پیش کی جائیں، جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ سورینج میں واقع کوئلہ کان میں گیس دھماکے کے باعث پیش آنے والا حادثہ حالیہ برسوں کے مہلک ترین کان حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں 34 کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں جاری رکھیں اور کان کے اندر پھنسے مزدوروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تمام لاشوں کو نکال کر ورثا کے حوالے کر دیا گیا جبکہ متاثرہ خاندانوں میں غم کی فضا برقرار ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا کان میں حفاظتی قوانین اور مائننگ ریگولیشنز پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا تھا یا نہیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو متعلقہ افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق تحقیقاتی رپورٹس کی روشنی میں نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا بلکہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی سفارشات مرتب کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔