یونٹی فوڈز کے
|

یونٹی فوڈز کے مالی معاملات میں اربوں روپے کے مبینہ تضادات، ایف آئی اے کا بڑا ایکشن

کراچی: یونٹی فوڈز مالی بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد شدید جانچ پڑتال کی زد میں آگئی ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تحقیقات میں اربوں روپے کے مبینہ مالی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کمپنی کی سابق انتظامیہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

ایس ای سی پی کی تحقیقات کے مطابق کمپنی کی جانب سے حصص یافتگان سے حاصل کیے گئے فنڈز کے استعمال، اکاؤنٹس میں مبینہ تضادات اور کمپنی کی رقم کو مقررہ مقاصد کے بجائے دیگر جگہوں پر استعمال کیے جانے سے متعلق اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یونٹی فوڈز نے رائٹس ایشو کے ذریعے حصص یافتگان سے تقریباً 3 ارب 75 کروڑ روپے حاصل کیے تھے۔ تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ اس رقم میں سے تقریباً 2 ارب 87 کروڑ روپے ان مقاصد کے بجائے دیگر امور پر خرچ کیے گئے جن کے لیے فنڈز حاصل کیے گئے تھے۔

 

تحقیقات میں کمپنی کے فنڈز سے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کی والدہ کو تقریباً 5 ارب 31 کروڑ 80 لاکھ روپے قرض کی صورت میں دیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یونٹی فوڈز کی ایک ذیلی کمپنی کے ذریعے دو نامعلوم فریقوں کو تقریباً 2 ارب 60 کروڑ روپے فراہم کیے جانے کا معاملہ بھی زیر تفتیش ہے۔

ایس ای سی پی نے کمپنی کے شائع کردہ مالیاتی حسابات کا اندرونی SAP ریکارڈ سے موازنہ بھی کیا۔ تحقیقات کے مطابق دونوں ریکارڈز میں تقریباً 44 ارب 70 کروڑ روپے کا مبینہ فرق سامنے آیا، جبکہ کمپنی کے ریکارڈ اور موجودہ اسٹاک کے درمیان بھی تقریباً 5 ارب 20 کروڑ روپے کے ذخیرے کا فرق رپورٹ کیا گیا۔

تحقیق میں تقریباً 5 ارب روپے کے پرانے واجبات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان رقوم کے عوض اشیا کی حقیقی فراہمی ثابت کرنے کے لیے مبینہ طور پر مناسب شواہد دستیاب نہیں تھے۔

ان نتائج کے بعد ایس ای سی پی نے ممکنہ فوجداری جرائم کی نشاندہی کرتے ہوئے معاملہ سیکشن 41-B کے تحت ایف آئی اے کو بھجوا دیا۔ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے 29 اگست کو کمپنی کی سابق انتظامیہ اور دیگر ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے سرمائے کا تحفظ اور مالیاتی رپورٹنگ میں شفافیت ریگولیٹر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے فنڈز کو صرف مقررہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ حصص یافتگان کو درست اور شفاف مالی معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

یونٹی فوڈز مالی بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ کارپوریٹ گورننس، مالیاتی نگرانی اور listed کمپنیوں میں احتساب سے متعلق اہم سوالات کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ تاہم تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات پر حتمی قانونی فیصلہ متعلقہ اداروں کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *