اسپن کاریز کوئلہ کان سانحہ پر مرتضیٰ تنولی کا اظہار افسوس

افکو انصاف محنت کش یونین کے جنرل سیکرٹری اور پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین (PCEM) کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام مرتضیٰ تنولی نے بلوچستان کے اسپن کاریز کوئلہ کان کے المناک سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے تمام محنت کشوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
غلام مرتضیٰ تنولی نے کہا کہ پاکستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حفاظتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ کان کن انتہائی خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ انہیں مناسب حفاظتی آلات، تربیت، طبی سہولیات اور ہنگامی امدادی نظام میسر نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بلوچستان، محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور متعلقہ ادارے فوری طور پر واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں، ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جاں بحق اور زخمی ہونے والے مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ اور مستقل سماجی تحفظ فراہم کریں، اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو کان کنی کے شعبے میں بین الاقوامی معیارات اپنانے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص بین الاقوامی محنت تنظیم (ILO) کے کنونشن نمبر 176 (Safety and Health in Mines Convention, 1995) کے اصولوں کے مطابق کان کنوں کی جان و مال کے تحفظ، محفوظ کام کے ماحول، حفاظتی تربیت، مزدوروں کی مشاورت اور مؤثر حفاظتی نظام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ کان کنی کے شعبے میں ان بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں قانون سازی اور مؤثر عمل درآمد کو ترجیح دیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ افکو انصاف محنت کش یونین اور پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین (PCEM) ملک بھر کے کان کنوں اور دیگر محنت کشوں کے محفوظ روزگار، باوقار کام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *