میر رضا علی قتل کیس ، مالی پہلو بھی تحقیقات میں شامل ، 18افراد زیر حراست
کراچی(جسارت نیوز)پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی 25 سالہ نوجوان تاجر اور آئی بی اے کے گریجویٹ میر رضا علی خان کے قتل کیس کی تحقیقات میں مزید اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے کیس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مقتول سے مالی لین دین رکھنے والے افراد کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب مقتول کے والد حسین رضا نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ دو بھائیوں سمیت 8افراد پر میر رضا کی رقم واجب الادا تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ دو افراد پر کروڑوں روپے جبکہ دیگر افراد پر لاکھوں روپے کے واجبات تھے، جس کے باعث مالی لین دین اور کاروباری معاملات کو بھی تحقیقات کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گلستان جوہر اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے دوران حراست میں لیے گئے افراد میں میر رضا کے 5قریبی دوست، ایک گیسٹ ہاؤس سے تعلق رکھنے والے 6 افراد اور جائے وقوعہ کے قریب سے گزرنے والے 4 افراد بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مقتول کے کاروباری پارٹنر کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم تمام افراد کے الگ الگ بیانات قلم بند کر رہی ہے تاکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔کیس میں سامنے آنے والی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تفتیش کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ پولیس کے مطابق فوٹیج میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک روشن چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو ابتدائی طور پر موبائل فون معلوم ہوتی ہے۔ بعد ازاں ایک شہری نے پولیس کو اطلاع دی کہ اسے مذکورہ مقام سے موبائل فون ملا تھا اور اس نے پولیس کو جائے وقوعہ کی نشاندہی بھی کی۔تحقیقاتی حکام نے کہا کہ برآمد ہونے والے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور ڈیجیٹل ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل ریکارڈ، مالی معاملات اور دیگر شواہد کو یکجا کر کے واقعے کی کڑیاں ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب مقتول کے والد حسین رضا نے میڈیکل رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، جبکہ اس کی موت کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میر رضا کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس جلائے گئے اور انہیں پیچھے سے گولی ماری گئی، تاہم میڈیکل رپورٹ میں مبینہ تشدد کے نشانات کا ذکر نہیں کیا گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر میر رضا 28 جولائی کو لاپتا ہوئے اور 29 جولائی کو ان کی لاش برآمد ہوئی تو اس دوران تقریباً 24 گھنٹے وہ کہاں رہے۔ ان کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور نے بھی بیان دیا ہے کہ میر رضا گھر سے نکلنے کے بعد خوشگوار موڈ میں تھے اور دوران سفر گانے سن رہے تھے، جس سے خودکشی کے امکان پر مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔یاد رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔پولیس حکام کے مطابق کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ تعین کرنا ابھی باقی ہے کہ میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا انہوں نے خودکشی کی۔ حکام کے مطابق حتمی نتیجہ فرانزک رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور تمام متعلقہ افراد سے تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔