امریکی سینٹکام نے آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق ایرانی دعوے مسترد کردیے
واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک بار پھر متضاد بیانات سامنے آ گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت عملاً ممکن نہیں رہی۔
امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ اہم عالمی بحری گزرگاہ بدستور تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے اور معمول کے مطابق استعمال کی جا رہی ہے۔
سینٹکام نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں۔
امریکی کمانڈ کے مطابق ایران کا اس بین الاقوامی بحری راستے پر مکمل کنٹرول نہیں ہے، اس لیے اس قسم کے دعوے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
امریکی فوج نے مزید کہا کہ گزشتہ 4 ماہ کے دوران ہزاروں تجارتی اور مال بردار جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی بحری تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔
🚫 CLAIM: Once again, the Iranian government claims it has closed the Strait of Hormuz. This is FALSE.
✅ FACT: The Strait of Hormuz remains open for commercial vessel transit. Iran does not control it. Thousands of ships have sailed through the international waterway over the… pic.twitter.com/sdDJ08MLHo
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 31, 2026
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت اور آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے امریکی اور اتحادی افواج مسلسل متحرک ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے حالیہ بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث اس وقت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کا گزرنا محفوظ نہیں، اس لیے نئی درخواستوں پر اس وقت تک غور نہیں کیا جائے گا جب تک خطے میں استحکام بحال نہیں ہو جاتا۔
یہ متضاد بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں کے دعوے بھی کیے ہیں، جس کے باعث خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر جاری بیانات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔