انٹرنیٹ پر حد سے زیادہ وقت گزارنے کے سنگین اثرات سامنے آگئے
اگر آپ روزمرہ کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر گزارتے ہیں تو یہ عادت صرف وقت ہی ضائع نہیں کرتی بلکہ آپ کی شخصیت، ذہنی کیفیت اور معمولاتِ زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی ڈیوسبرگ۔ایسن یونیورسٹی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال افراد میں تناؤ، چڑچڑے پن اور دیگر اہم سرگرمیوں سے لاتعلقی جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں 900 افراد کو شامل کیا گیا، جن کی آن لائن سرگرمیوں اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کی عادات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محققین نے شرکا کے انٹرنیٹ استعمال کے دورانیے کی بنیاد پر انہیں 3 مختلف گروہوں میں تقسیم کیا تاکہ ہر گروہ کے رویوں اور ذہنی کیفیت کا الگ الگ تجزیہ کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیق کے دوران شرکا سے مسلسل 2 ہفتوں تک ہر شام ایک سوالنامہ پُر کروایا گیا، جس میں ان سے اس دن کے مزاج، ذہنی دباؤ، انٹرنیٹ استعمال کرنے کی خواہش کی شدت اور آن لائن گزارے گئے مجموعی وقت سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔
اس جائزے کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے سے انہیں کس حد تک خوشی یا اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں تعلیم، کام، سماجی روابط اور دیگر روزمرہ سرگرمیاں کس حد تک متاثر ہوتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد طویل وقت تک انٹرنیٹ سے وابستہ رہتے ہیں، ان میں چڑچڑے پن، ذہنی دباؤ اور زندگی کے دیگر اہم معاملات کو نظر انداز کرنے کا رجحان نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق اس رویے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد انٹرنیٹ پر وقت گزارنے کو ذہنی سکون اور خوشی کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں، جس کے باعث ان کی اس پر انحصار کرنے کی خواہش بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم نے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ آن لائن سرگرمیاں انسان کی ذہنی صحت، شخصیت اور روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جبکہ یہ خطرات ان افراد میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں۔