امریکا کو مذاکرات کیلیے کوئی درخواست نہیں کی‘ جنگ کے اختتام کا فیصلہ ہم کرینگے ‘ایران

تہران،واشنگٹن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تہران: ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ جب بھی عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو واشنگٹن دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز میں یہ سمجھا تھا کہ ایران چند ہی دنوں میں کمزور ہو کر ہتھیار ڈال دے گا تاہم صورتحال اس کی توقعات کے برعکس رہی۔اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا کا ابتدائی اندازہ تھا کہ ایران تین دن کے اندر ٹوٹ جائے گا اور ہتھیار ڈال دے گا لیکنکئی ماہ گزرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کو جنگ کے اختتام کا تعین نہیں کرنے دے گا اور ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی کیوں کہ ایسا کرنا ایرانیوں کی فطرت میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان بات چیت مثبت رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں صورتحال تبدیل نہیں ہوئی اور وہ بدستور بند ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ کچھ خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکا کی جنگ میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب بھی اپنے اقدامات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ ایران انہیں جارحیت قرار دیتا ہے۔ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تہران نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ جب بھی عالمی توانائی کی منڈیوں میں دباؤ بڑھتا ہے اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو امریکا دوبارہ مذاکرات کی طرف رجوع کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی پالیسیوں اور مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا اور بیرونی دباؤ کے تحت اپنے مؤقف میں تبدیلی نہیں لائے گا۔بقائی نے مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران سفارتی عمل کا مخالف نہیں، لیکن مذاکرات باہمی احترام اور مساوی بنیادوں پر ہونے چاہییں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: ’ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات اور جارحیت میں مصروف ہے، ہماری توجہ دفاع پر مرکوز ہے۔ ممکن ہے کہ ثالث موجودہ علاقائی پیش رفت کے بارے میں امریکی فریق کے پیغامات ہمیں پہنچائیں۔بقائی نے بحیرہ خزر میں ایک جہاز پر یوکرین کے حملے کوغیر قانونی اوربلاجواز مہم جوئی قرار دیا اور ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔علاوہ ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کافی وقت ہے، ابھی ہم ایران سے بات چیت کر رہے ہیں، ہماری ایران سے اچھی بات چیت ہو رہی ہے، بہت امکان ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔مشی گن روانہ ہونے کے بعد دوران سفر طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہتھیار موجود ہیں، میں مزید ہتھیار بھی چاہتا ہوں، ایران کے معاملے میں ہم اسرائیل کے زیادہ نزدیک ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے پوچھیں گے کہ آیا روسی سیٹلائٹ مشرق وسطیٰ میں حملوں کی رہنمائی کے لیے ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ امریکا اس وقت سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع میں شامل نہیں، مگر ضرورت پڑی تو مداخلت کرسکتے ہیں۔قبل ازیں ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر سخت حملوں کی دھمکی دیدی، امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ سخت فوجی کارروائی کا حکم دینے کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ نے سفارتکاری کے لیے دیے جانے والے وقت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ وقت نہیں یا تو بات چیت جلدی کامیاب ہوگی یا پھر بالکل نہیں ہوگی۔جمعے کو ایران پر حملے روکنے کا حکم دینے سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران پر جمعے کو حملے روکنے کا حکم ثالثی کی کوشش کرنے والے ممالک کے کہنے پر دیا۔ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے اسلحہ اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور اس کی مقدار ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں گردش کرنے والی تشویش درست نہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے اندر ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف فوجیکارروائیاں مزید وسیع ہوئیں تو امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔دریں اثناء ایران کی وزارتِ خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب کاظم غریب آبادی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عمان میں مذاکرات ہوئے تھے۔ان کے مطابق مخالف فریق کا اصرار تھا کہ ایران اور عمان کے مذاکرات کے نتیجے تک جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولا گیا جنوبی راستہ کھلا رکھا جائے، تاہم ایرانی وفد نے یہ تجویز مسترد کر دی۔غریب آبادی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے کسی قسم کا اصرار یا درخواست نہیں کی۔دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ملک پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتا ہے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب نے عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ عراق اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔ واضح رہے پیر کے روز عراق کی سرزمین سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر دو ڈرون داغے گئے جس کو ملک کے ایئر ڈیفنس نے فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔اس سے قبل جمعے کے روز سعودی افواج نے ہوثیوں کے زیر انتظام شہر الحدیدہ پر حملہ کیا تھا۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان معاملہ کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔پاکستان نے سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے پر کیے گئے ڈرون حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے، اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ادھراردن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 2 ڈرون مار گرائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ملک پر حملہ آور دو ڈرونز کو کامیابی سے روک دیا گیا ہے۔ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈرونز کو روکنے کی کارروائی میں کوئی جانی یا مادی نقصان نہیں ہوا تاہم فوج نے یہ واضح نہیں کیا کہ ڈرون کس نے چلائے۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران اردن میں امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں سے بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔علاوہ ازیں ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایرانی فوج نے آپریشن مرصاد کی سالگرہ کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات اور دشمن کی ممکنہ سازشوں پر پہلے سے زیادہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فوج پہلے سے کہیں زیادہ چوکس ہے اور ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہے گی۔ایرانی فوج کے مطابق ملک کی آزادی اور سرحدوں کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے، اور اگر کسی بھی فریق نے مستقبل میں ایران کے خلاف جارحیت کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ایران فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے غیر منظور شدہ راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کرنے والے 6 بحری جہازوں کو روک کر واپس بھیج دیا۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ رات کی گئی، جب6 تجارتی جہازوں نے ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔سرکاری ٹی وی کے نمائندے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جہازوں کو پہلے انتباہ جاری کیا، جبکہ انہیں روکنے کے لیے وارننگ شاٹس بھی فائر کیے گئے۔ بعد ازاں تمام جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔دریں اثناء یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے، جنہیں ایران مبینہ طور پر امریکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جولائی کے آغاز سے یوکرینی حکام نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر روسی سیٹلائٹس کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ان کے مطابق روس کی جانب سے حاصل کی جانے والی یہ سیٹلائٹ تصاویر بعد ازاں ایران تک پہنچتی ہیں، اور ان تصاویر اور ایرانی حملوں کے درمیان واضح تعلق دیکھا گیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یہ معلومات حملوں سے پہلے اہداف کی تیاری، حملوں کے دوران رہنمائی اور بعد میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایران اور روس کے درمیان عسکری سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب ایران نے یوکرین کے اس مبینہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران میں تعینات یوکرینی ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے کو “جارحانہ اور مجرمانہ اقدام” قرار دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یوکرین کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق امریکی فوجیوں کے جانی نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 زخمی ہو چکے ہیں۔پینٹاگون نے ہفتے کے روز اپنے ڈیفنس کیڑولٹی اینالیسس سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے 140 سے زائد مزید زخمی اہلکاروں کا اندراج کیا۔ اس کے علاوہ حالیہ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو بھی دوبارہ سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اپنے ریکارڈ میں ’اوورسیز آپریشنز‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت 7 جولائی سے بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا الگ ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر اس نئی کیٹیگری کے اعداد و شمار کو آپریشن ایپک فیوری کے ریکارڈ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں مجموعی طور پر 18 امریکی فوجی ہلاک اور 624 زخمی ہوئے ہیں۔پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 11 کا تعلق امریکی آرمی، 6 کا امریکی فضائیہ (ایئر فورس) اور ایک کا امریکی بحریہ (نیوی) سے ہے۔اسی طرح زخمی اہلکاروں میں 461 آرمی، 86 نیوی، 58 ایئر فورس اور 19 میرین کور سے تعلق رکھتے ہیں۔جبکہ پاسداران انقلاب نے امریکا پر ایرانی حملوں کی تفصیلات جاری کردی ہے، جس میں امریکی نقصانات کی طویل فہرست شامل ہے۔خبرایجنسی اہل البیت (اے بی این اے) 24کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے 15 روزہ جنگ کے دوران امریکا کے 11 لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹرز تباہ کردیے جو خطے میں موجود امریکی بیسز میں کھڑے تھے۔بریگیڈیئرجنرل حسین محبی نے بتایا کہ خطے میں ایرانی فورسز کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے اور شدید حملے کیے ہیں۔پاسداران انقلاب کے ترجمان کی جانب سے امریکی نقصانات کی جاری کی گئی فہرست کے مطابق ریڈار اور فضائی دفاعی نقصانات میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، 3 سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز، 6 پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس ریڈار شامل ہے، پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس ریڈار سسٹم کمزور ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی میزائل اور ڈرونز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف پر پہنچ رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق 3 فضائی اور بحری سرویلنس اور کنٹرول ریڈارز، 8 ارلی وارننگ اور نگرانی کے ریڈار سسٹمز، 7 فضائی میزائل دفاعی ریڈارز، 3 ای پی ایس ریڈار سسٹمز، دو ای پی ایس117 ریڈار سسٹمز، 5 طویل فاصلے تک کام کرنے والے ریڈارز، 2 فضائی دفاعی ریڈارز، ایک ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس تباہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ معاونت اور لاجسٹک اثاثوں6 لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال اور مرمت کے مراکز، 3 معاونت اور لاجسٹک مراکز، 12 ایندھن ذخیرہ کرنے کے ٹینک، 17 ہتھیاروں کی معاونت کے ڈپو اور بحری و فضائی اسپیئر پارٹس کے ذخیرہ مراکز، 6 میزائل ذخیرہ کرنے کے بنکر تباہ ہونے والے امریکی اثاثوں میں شامل ہیں۔علاوہ ازیں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے اشاروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 5.8 فیصد کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 5.5 فیصد کمی کے بعد 84.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی تھیں تاہم امریکی حملوں میں وقفے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں فوری طور پر جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات کم ہوئے ہیں۔قبل ازیںاسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو صدر ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت کے لیے منتخب ہونے کے بعد ان کے درمیان آٹھویں ملاقات ہو گی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کسی بھی دوسرے بین الاقوامی رہنما کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی سب سے زیادہ ملاقاتیں ہیں۔ انھوں نے اسے اپنے لیے اعزاز اوربڑی ذمہ داری قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ ملاقات میں زیرِ غور تمام موضوعات پر بات چیت ہو گی، تاہم ایران اس ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔ادھراسرائیل کے سابق وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ دوبارہ وزیرِاعظم بنے تو قطر کو فوراًایک دشمن ملک قرار دیں گے۔بینیٹ نے ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ قطر کی حکومت پرتشدد اوریہود مخالف سرطان ہے، جس نے اپنی شاخیں پورے مغرب اور یہاں تک کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم کے دفتر تک پھیلا رکھی ہیں۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں انھوں نے ایسی معلومات دیکھی تھیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر پاسدارانِ انقلاب کو مالی مدد فراہم کر رہا تھا۔انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اس سیاست دان، جو اسرائیلی اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں، نے قطر پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کی تباہی کا خواہاں ہے۔بینیٹ نے کہا کہ قطر نے ایک طاقتور عالمی نیٹ ورکِ کے اثر و رسوخ پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو اسرائیل کو بہت نقصان پہنچاتا ہے۔انھوں نے قطر پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے امریکی یونیورسٹیوں میں اور الجزیرہ ٹیلی وژن نیٹ ورک کے ذریعے ’اشتعال انگیزی کے مراکز قائم کیے ہیں اور حماس کو بھی اربوں ڈالر کی مدد فراہم کی ہے۔دریں اثناوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوحہ میں قطر کے وزیر داخلہ خلیفہ بن حمد سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔قطری وزیر داخلہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور سلامتی و استحکام کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *