آزاد کشمیرانتخابات : ہنگامہ آ رائی ‘فائرنگ‘پی پی کارکن جاں بحق‘ 3 افراد زخمی‘ 2 پریذائیڈنگ افسران گرفتار‘ن لیگ کا پلڑا بھاری
میرپور/نکیال/اسلا م آباد/ کوٹلی (خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے مختلف حلقوں کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔پہلے مرحلے میں غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا ۔تفصیلات کے مطابق میرپور ڈویژن کے3 اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں عوام نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا، پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 6 بجے تک جاری رہا، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔5 بجے پولنگ کا وقت ختم ہونا تھا تاہم چیف الیکشن کمشنر نے میرپور ڈویژن میں پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھادیا جو کہ 6 بجے تک جاری رہا جس کے بعد پولنگ کا عمل روک کر ووٹوں کی گنتی کی گئی بعدازاں غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا عمل جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق پولنگ کے عمل میں پچھلے الیکشن کی بہ نسبت کم تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا، ووٹ ڈالنے کی شرح پہلے سے کم رہی ۔موصول شدہ غیر حتمی اورغیرسرکاری نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے 1 میرپور 1 کے 139 پولنگ اسٹیشنز میں سے 107 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اورغیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے اظہر صادق 12303 ووٹ لے کرآگے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد افسر شاہد 7278 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 2 میرپور 2 کے 149 پولنگ اسٹیشنز میں سے 49 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے قاسم مجید 3663 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چودھری 3570 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 کے 161 میں سے 131 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری یاسر سلطان 9361 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد سعید 9100 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 4 میرپور 4 کے 162 پولنگ اسٹیشنز میں سے 16 کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چودھری رخسار احمد 2021 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری صہیب ارشد 1288 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 5 بھمبر 1 کے 176 پولنگ اسٹیشنز میں سے 115 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وقار احمد نور 21573 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری پرویز اشرف 18406 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 6 بھمبر 2 کے 195 پولنگ اسٹیشنز میں سے 100 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد رزاق 21210 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے علی شان چودھری 11354 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 کے 237 پولنگ اسٹیشنز میں سے 51 کا غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چودھری طارق فاروق 9178 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار چودھری انوار الحق 5064 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 8 کوٹلی 1 کے 155 میں سے 10 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ظفر اقبال ملک 1221 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد نواز خان 1174 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2 کے 178 پولنگ اسٹیشنز میں سے 119 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم 23568ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی 15382 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 کے 169 میں سے 36 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے چودھری محمد یاسین 6999 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے فتح محمود الحسن 3560 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 11 کوٹلی 4 کے 206 پولنگ اسٹیشنز میں سے 2 کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری محمد اخلاق 254 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد آصف 148 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 12 کوٹلی 5 کے 207 پولنگ اسٹیشنز میں سے 40 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری محمد یاسین 2613 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد ریاست خان 1255 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ ایل اے 13 کوٹلی 6 کے 193 پولنگ اسٹیشنز میں سے 110 کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیا، جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے راجا ایاز احمد خان 13063 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ولید انقلابی 8995 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔دریں اثناآزاد کشمیر کے حلقہ نکیال میں پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ نکیال کے گاؤں دھیری میں پیش آیا جہاں پولنگ کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آ گئے۔ کشیدگی بڑھنے پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں مختار یونس موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے، واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی جبکہ متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا رپوٹس پر کوٹلی میں 2 پریذائیڈنگ افسران کے خلاف سخت نوٹس لیا۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق پریذائیڈنگ افسران پولنگ اسٹیشن پہنچنے کے بجائے نجی رہائش گاہ چلے گئے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے دونوں پریذائیڈنگ افسران کو گرفتار کروا کر حوالات بند کرا دیا، دونوں پریذائیڈنگ آفیسران کو الیکشن کمیشن نے ملازمت سے بھی معطل کردیا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے ہر شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، گرفتار پریذائیڈنگ افسران کے خلاف انتخابی قوانین کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، انتخابی عمل میں غفلت یا بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ ایک ہزار 439 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 7 لاکھ 25 ہزار 118 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 628 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔انتخابی عمل کے لیے ڈویژن بھر میں 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے۔ ضلع میرپور کے 4 حلقوں میں 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 1107 جبکہ ضلع بھمبر کے 3 حلقوں میں 608 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔
راولاکوٹ (صباح نیوز) راولاکوٹ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں گزشتہ 45 دنوں سے جاری عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاجی دھرنا بالآخر مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ میں تبدیل ہو
گیا ہے، اور دھرنے کے شرکانے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔عوام ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عمر نذیر نے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ اکتوبر 2025 میں ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے اور جولائی میں ہونے والے مذاکرات کے ناکام ہونے پر 25 جولائی کو لانگ مارچ کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے دیگر اضلاع سے بھی شہریوں کی بڑی تعدادپیر کی صبح ہی راولاکوٹ پہنچ گئی تھی۔ لانگ مارچ میں بڑی تعداد میں شہری شامل ہیں۔دھرنے میں موجود سوشل میڈیا انفلوئنسر حمزہ نصیر کے مطابق، لانگ مارچ کے شرکا مختلف متبادل راستوں کا استعمال کرتے ہوئے مظفرآباد کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔دوسری جانب، حالات کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے راولاکوٹ شہر اور اس کے اطراف میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ مظاہرین کے دباؤ اور سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث شہر اور قریبی علاقوں میں کسی بھی وقت شدید تصادم اور کشیدگی کا خطرہ موجود ہے۔