کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقا Cultural Evolution اور سماجی ارتقا Social evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔ یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔ سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار، خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرین ِ بشریات یعنی اینتھرو پالوجسٹ اور ماہرین ِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔ معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔ اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میں Auguste Comte، ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابن ِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروں Living organizms کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکر Cycle سے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش، نشوونما، بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جرمن فلسفی ہیگل Hegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالت ِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایڈم فرگوسن، جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور، دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور، تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابن ِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب، سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی، سائنس اور محنت کی تقسیم یعنی Division of Labour کے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔ قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انہیں وحشی اور ابتدائی Primitive سے الگ ظاہر کیا جا سکے۔ آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔ یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔ تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھرو پالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان، گروہ یا سوسائٹی جسمانی، ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔ انہیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔ اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualization کی طرف قدم بڑھاتے، منظم سیاسی، معاشی، سماجی، علمی، مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔ تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم، فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا، نمایندہ عمارتوں کی تعمیر، روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔ لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civis یعنی شہری سے نکلا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی، منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔ تہذیب کلچر کا منظم، ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalized روپ ہے جس میں حکومت، قانون، عدالت، شہروں کی منصوبہ بندی، تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں، زراعت فوڈ سیکورٹی کی ضامن بن جائے، منظم حکومت، معاشی نظام ہو، سماجی ادارے بن جائیں، سائنس اور ٹیکنالوجی، فنونِ لطیفہ، مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں، سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی، معاشی بحران نے جنم لے لیا، بیرونی حملے روکے نہ جا سکے، باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے، علمی و فکری جمود طاری ہوا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔ (بشکریہ: ایکسپریس نیوز)