بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی

بھارتی چیف جسٹس کے متنازع ریمارکس کے بعد جنم لینے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے دلی میں پہلا زبردست احتجاج کیا اور اس احتجاج میں پیپر لیک ہونے پر وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابجھت دیپکے بھی امریکا سے بھارت پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہونے تو ان کا احتجاج ملک بھر میں پھیل جائے گا۔ واضح ر ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے ایک کیس کی سماعت کے دوران بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہا تھا جس کے ردعمل میں نوجوانوں اور طلبہ شدید مشتعل ہوگئے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابجھجیت دیپکے نے اپنی تقریر میں گزشتہ ایک دہائی سے بھارتی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو ہندو مسلم سیاست میں الجھا کر نوجوانوں کے روزگار اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کیا گیا۔ نوجوانوں کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی تقسیم کو فروغ دیا گیا۔ ہماری پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ معطل کردیا گیا۔ پوسٹیں اور اکاؤنٹ حذف کیے جا سکتے ہیں لیکن نوجوانوں کی آواز اور تحریک کو خاموش نہیں کروایا جاسکتا۔ انڈیا کو گٹر بناؤ گے تو اس میں سے کاکروچ ہی نکلے گے۔

بلاشبہ کاکروچ جنتا پارٹی نے بھارت کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 15 مئی 2026 کو جب بھارت کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہا تو راتوں رات ذی جنریشن احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام پر 22 ملین سے زائد ان کے فالورز بن چکے ہیں۔ جبکہ بی جے پی کے فالورز 9 ملین کے قریب ہیں۔ بھارتی حکومت نے نئی دلی میں پارلیمنٹ کے گھیراؤ کے موقع پر کاکروچ جنتا پارٹی پر بدترین تشدد اور شیلنگ کی اور سیکڑوں کی تعداد میں کارکنان گرفتاریاں بھی کی گئی اور سیکڑوں کارکنان زخمی بھی ہیں لیکن جین زی کا غصہ کم ہونے کو نہیں آرہا ہے۔ نیپال اور بنگلا دیش کے بعد بھارت میں جین زی انقلاب کیا شکل اختیار کرے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بہتر بتائے گا۔ ابھی تو مودی سرکار کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں اور وہ یہ سب پاکستان اور بنگلا دیش کے کھاتے میں ڈال رہا ہے لیکن بھارت کا نوجوان بہت باشعور ہے۔ بھارت میں 25 فی صد تعداد نوجوانوں کی ہے اور بھارت نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ بھارت جہاں غربت اور بے روزگاری کاراج ہے۔ ایسے میں پیپر لیک کے بعد چیف جسٹس کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہنا جلتی پر تیل کا کام کرگیا۔ یہ تحریک اس وقت سوشل میڈیا کی سب سے بڑی تحریک بن چکی ہے۔ 94 فی صد فالورز صرف انڈیا کے ہی ہیں۔ دس لاکھ لوگ بطور رضا کار کاکروچ پارٹی میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد رجسٹر ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مودی سرکار کو اپنی سرکار ہلتی نہیں بلکہ چلتی نظر آرہی ہے اور وہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان، آئی ایس آئی اور بنگلا دیش کا نام لگا کر اپنی سبکی مٹا رہے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب نریندر مودی کو بھی حسینہ واجد کی طرح ہیلی کاپٹر میں کسی دوسرے ملک فرار ہونا پڑے گا یا پھر شاید کاکروچ انہیں کسی گٹر میں ڈال کر اس کا ڈھکن بھی ہمیشہ کے لیے بند کردیں گے، تا کہ نہ رہے گا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *