سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم کی نماز جنازہ حافظ نعیم الرحمن کی امامت میں ادا‘ ہزاروں سوگواروں کی شرکت
لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم کی نماز جنازہ جمعرات کو منصورہ لاہور میں ادا کر دی گئی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کی دینی و ملی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔نماز جنازہ میں سیاسی، مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، دینی و سماجی شخصیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، جماعت اسلامی کے مرکزی و صوبائی ذمے داران، صحافی، وکلا، اساتذہ، تاجر رہنما، کسانوں مزدوروں کے نمائندوں، کارکنان جماعت اسلامی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سابق گورنر پنجاب چودھری سرور، سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی، سابق میئر لاہور خواجہ احمد احسان،جے یو آئی کے رہنما مولانا امجد خان، مسلم لیگ ن کے رہنما حافظ نعمان، میاں مرغوب، جمعیت اہلحدیث کے سربراہ ابتسام الٰہی ظہیر، نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عطا الرحمن، ڈپٹی سیکرٹریز جماعت اسلامی نذیر جنجوعہ ، اظہر اقبال حسن ، وقاص جعفری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم ، امیر پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان، امیر کراچی منعم ظفر، امیر لاہور ضیاالدین انصاری، جماعت اسلامی کے رہنما راشد نسیم، ڈاکٹر فرید پراچہ، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک، حافظ محمد ادریس ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، آصف لقمان قاضی، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، علی سجاد، مبشر لقمان، قیوم نظامی، میاں ظہور وٹو،حق نواز گھمن اور مختلف اضلاع کے امرا شریک ہوئے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اقلیتی امور سرداررمیش سنگھ اروڑہ، گوردوارا پربندھک کمیٹی کے رہنما سردار دیپک سنگھ، سندیپ سنگھ اور دیگر اقلیتوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔نماز جنازہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ جماعت اسلامی کے کارکنان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور ہرکارکن کا خیال رکھنے والے تھے۔ امیر العظیم نے بہادری سے کینسر سے جیسے موذی مرض کا مقابلہ کیا اور کبھی بھی بیماری کو دینی و تحریکی امور کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عمر میں بڑے ہونے کے باوجود انہوں نے سیکرٹری جنرل کے طور پر بہترین طریقے سے حق اطاعت ادا کیا جو کسی بھی کارکن جماعت کا خاصہ ہے،امیر العظیم یہ سمجھتے تھے کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی جدوجہد کے شاندار عوامی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جماعت اسلامی کے کارکنان ، امیر العظیم سے محبت اور دین کی بالادستی کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اپنے آپ کو عظیم جدوجہد کے لیے تیار کرلیں۔ اللہ عزوجل امیرالعظیم کے درجات کو بلند کرے۔اس موقع پر لیاقت بلوچ نے امیر العظیم سے 52 سالہ تحریکی رفاقت کا ذکر کیا اور زمانہ طالب علمی سے لے کر ان کی وفات تک کی ذمے داریوں کا مختصر احاطہ کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیرالعظیم کی جدوجہد ایک مثالی جدوجہد ہے جو ہر کارکن کے لیے سبق ہے۔ انھوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔امیرالعظیم بدھ کی رات کینسر کے عارضے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے غیر معمولی استقامت، صبر اور عزم کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا اور آخری لمحات تک جماعت اسلامی کی تنظیمی و تحریکی ذمے داریاں پوری تندہی سے انجام دیتے رہے۔ امیرالعظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تحریکی زندگی کا آغاز طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی سے ہوا۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم رہے، بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کی قیادت کی، جس کے دوران انہیں جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ وہ دورانِ اسیری اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی منتخب رہے۔جمعیت سے فراغت کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان میں مختلف اہم تنظیمی ذمے داریاں انجام دیں، جن میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور2 مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل کے عہدے شامل ہیں۔ 2019ء میں جماعت اسلامی کے اُس وقت کے امیر سراج الحق نے انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔مرحوم نے اپنی پوری زندگی اقامت دین، اسلامی نظام کے قیام، جمہوری جدوجہد اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے عدلیہ بحالی کی تاریخی وکلا تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ 2002ء کے ضمنی انتخابات میں انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے لاہور سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا۔امیرالعظیم سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں اپنی نرم گوئی، شائستگی اور بہترین تعلقات کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے تھے جبکہ جماعت اسلامی کے ایک بہترین منتظم، مربی اور فکری رہنما کے طور پر ان کی تقاریر اور خطابات کارکنان کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے۔