بھوک نہ ہونے پر بھی بار بار فریج کیوں کھولتے ہیں؟ ماہرین نے وجہ بتا دی
اگر آپ بھی دن میں کئی مرتبہ فریج کا دروازہ کھولتے ہیں، اندر موجود اشیا پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور بغیر کچھ لیے واپس آ جاتے ہیں، تو ضروری نہیں کہ اس کی وجہ بھوک ہی ہو، یہ عادت اکثر جسمانی ضرورت کے بجائے ذہنی کیفیت، روزمرہ معمولات اور دماغی رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔
صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بوریت، ذہنی تھکن یا یکسانیت کے دوران انسانی دماغ کسی ایسے محرک کی تلاش میں رہتا ہے جو وقتی طور پر خوشی، دلچسپی یا سکون کا احساس پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ لاشعوری طور پر فریج کی طرف بڑھ جاتے ہیں، حالانکہ ان کے جسم کو درحقیقت خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے مزید بتایا کہ چینی، چکنائی اور نمک سے بھرپور غذائیں دماغ میں خوشگوار احساس پیدا کرنے والے کیمیائی عمل کو متحرک کرتی ہیں، اسی لیے کام کے دوران وقفہ ملنے یا بیزاری محسوس ہونے پر انسان کا ذہن خودبخود کھانے پینے کی چیزوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ اس کیفیت کا تعلق حقیقی بھوک سے زیادہ ذہنی آسودگی حاصل کرنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔
نفسیات میں بھوک کی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی وہ جس میں جسم کو واقعی توانائی اور غذا درکار ہوتی ہے، جبکہ دوسری وہ جس میں انسان صرف ذائقے، لطف یا وقتی تسکین کی خاطر کچھ کھانے کی خواہش محسوس کرتا ہے۔ ماہرین اس دوسری کیفیت کو لذتی بھوک قرار دیتے ہیں، جس میں اصل ضرورت خوراک نہیں بلکہ ذہنی اطمینان حاصل کرنا ہوتا ہے۔
صحت ماہرین کے مطابق کمپیوٹر پر مسلسل کام کرنے والے یا طویل وقت تک کسی ایک سرگرمی میں مصروف رہنے والے افراد اکثر مختصر وقفے کے دوران غیر ارادی طور پر فریج کا رخ کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مرتبہ وہ کچھ کھاتے بھی نہیں، لیکن صرف فریج کھول کر دیکھ لینے سے ہی انہیں ذہنی تازگی یا وقتی سکون کا احساس مل جاتا ہے۔
اس عادت کی ایک اور اہم وجہ انسانی دماغ میں موجود تجسس اور امید کا عنصر بھی ہے۔ دماغ یہ تصور کرتا ہے کہ شاید فریج میں کوئی پسندیدہ میٹھی چیز، آئس کریم یا کوئی نئی خوراک موجود ہو، جسے پہلے نہیں دیکھا گیا۔ یہی توقع انسان کو بار بار فریج کھولنے پر آمادہ کرتی ہے۔
ماہرین اس رویے کا موازنہ موبائل فون بار بار دیکھنے کی عادت سے بھی کرتے ہیں۔ جس طرح بہت سے لوگ نئی اطلاع یا پیغام کی امید میں بارہا فون چیک کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ شاید کچھ نیا موجود نہ ہو، اسی طرح فریج کھولنے کے پیچھے بھی کسی خوشگوار امکان کی تلاش کارفرما ہوتی ہے۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عادتیں عموماً ایک مخصوص سلسلے کے تحت بنتی ہیں۔ پہلے کوئی صورتحال یا اشارہ سامنے آتا ہے، پھر انسان ایک خاص عمل دہراتا ہے اور آخر میں اسے کسی نہ کسی صورت ذہنی سکون یا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہی عمل مستقل عادت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
تحقیقی ماہرین کے مطابق گھر سے کام کرنے والے افراد یا وہ لوگ جو زیادہ وقت تنہا گزارتے ہیں، اس رویے کا نسبتاً زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک کام مکمل ہونے اور دوسرے کے آغاز کے درمیان ملنے والا مختصر وقفہ انہیں غیر محسوس انداز میں کچن کی طرف لے جاتا ہے، چاہے انہیں بھوک محسوس نہ ہو۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اردگرد کا ماحول بھی اس عادت کو تقویت دیتا ہے۔ اگر فریج آسانی سے نظر آنے والی جگہ پر ہو، کچن روشن ہو یا کھانے پینے کی اشیا ہر وقت سامنے رکھی ہوں تو فریج کھولنے کی خواہش مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ خود کو ایک ہی گھنٹے میں کئی مرتبہ فریج کھولتے ہوئے دیکھیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے ضرور پوچھیں کہ آیا واقعی جسم کو خوراک درکار ہے یا پھر ذہن صرف بوریت دور کرنے، توجہ بدلنے یا کسی نئی دلچسپی کی تلاش میں ہے۔ ان کے مطابق اس سوال کا جواب اکثر افراد کو اپنی روزمرہ عادات کے بارے میں غیر متوقع حقیقت سے آگاہ کر سکتا ہے۔