ایس ایم ایز کی نئی ڈیفی نیشن خوش آئند ہے‘ میاں زاہد حسین

کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کی نئی ڈیفینیشن ایک بروقت، مثبت اور کاروبار دوست فیصلہ ہے۔ نئی درجہ بندیاں بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت، مہنگائی اور روپے کی قدر میں تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے معاشی حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتی ہیں اور ان سے مزید کاروباری اداروں کو ایس ایم ای فنانسنگ اور سہولتوں تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16 جولائی 2026 سے نافذ نئی تعریف کے مطابق 3کروڑ روپے تک سالانہ فروخت رکھنے والا کاروبار مائیکرو انٹرپرائز، 3کروڑ سے زیادہ اور 40کروڑ روپے تک فروخت والا ادارہ سمال انٹرپرائز جبکہ 40کروڑ سے زیادہ اور 2ارب روپے تک سالانہ فروخت رکھنے والا ادارہ میڈیم انٹرپرائز شمار ہوگا۔ وہ کاروباری ادارے جو مسلسل 5سال سے کاروبار کر رہے ہوں اسٹارٹ اپ قرار پائیں گے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے فائدہ مند ہوگا جن کا ٹرن اوور قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑھ گیا تھا، مگر ان کی مالی اور انتظامی استعداد بڑے کارپوریٹ اداروں کے برابر نہیں تھی۔ تاہم نئی درجہ بندی قرض کی خودکار منظوری نہیں ہے۔ بینک بدستور کیش فلو، کریڈٹ ہسٹری، ادائیگی کی صلاحیت اور رسک پروفائل کی بنیاد پر درخواستوں کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2026 میں ایس ایم ای فنانسنگ تقریباً 854 ارب روپے تھی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *