ایران کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے پر مؤقف نرم کرنے پر غور
تہران: آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران ایران نے پہلی بار اپنے دیرینہ مؤقف میں ممکنہ نرمی کے آثار دکھائے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ تہران یورپی ممالک کو مخصوص شرائط کے ساتھ بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کی اجازت دینے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ عالمی تجارتی جہاز رانی دوبارہ معمول پر آسکے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی حکام اس تجویز پر مختلف سفارتی حلقوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری راستے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ خام تیل اور دیگر سامان لے جانے والے آئل ٹینکرز بلا رکاوٹ اپنی منزلوں تک پہنچ سکیں۔
تاہم ایران نے اس ممکنہ تعاون کو کئی اہم نکات سے مشروط کیا ہے۔ ان میں یورپی بحری جہازوں کی سلامتی کی ضمانت، جنگ بندی یا کشیدگی میں واضح کمی، پاسداران انقلاب کی منظوری اور کارروائی کو صرف انسانی و تجارتی جہاز رانی تک محدود رکھنا شامل ہے۔
سفارتی ذرائع نے مزید کہا کہ ان شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا، تاہم مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران ایران، عمان اور مغربی ممالک کے درمیان جاری رابطوں میں بھی بحری گزرگاہ کی محفوظ بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے کیونکہ ایران ماضی میں کسی بھی غیر ملکی بحری قوت کو آبنائے ہرمز میں سکیورٹی یا بارودی سرنگیں ہٹانے کی کارروائی کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ رابطہ کاری میں ایرانی حکام نے اسی مؤقف میں لچک کے اشارے دیے ہیں۔
قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی عمان کے ساتھ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق رائے کی تصدیق کی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اگر بارودی سرنگیں صاف کرنے کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو عالمی جہاز رانی بحال ہونے، بحری انشورنس اخراجات میں کمی اور خام تیل کی عالمی سپلائی مستحکم ہونے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔