|

سندھ میں پہلی بار افسران کے لیے مشترکہ ٹریننگ پروگرام کا آغاز

کراچی: سندھ مشترکہ ٹریننگ پروگرام کے تحت صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے 101 افسران کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے ٹریننگ اینڈ ریسرچ ونگ کراچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ سرکاری افسران کی تیاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

101 افسران تربیت حاصل کریں گے
حکام کے مطابق اس تاریخی مشترکہ تربیتی پروگرام میں مختلف محکموں کے 101 افسران شریک ہیں، جن میں:

29 پروونشل مینجمنٹ سروس (PMS) افسران
27 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DSPs)
40 اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ افسران
4 اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز
1 اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن

شامل ہیں۔

AI اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت بھی نصاب کا حصہ
چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ تربیتی پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، پروجیکٹ مینجمنٹ اور گوگل سرٹیفیکیشن جیسے جدید موضوعات شامل کیے گئے ہیں تاکہ افسران کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افسران کو سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (SPPRA) کے قواعد و ضوابط سے بھی تفصیلی آگاہی فراہم کی جائے گی۔

عوامی خدمت ایک ذمہ داری ہے، چیف سیکریٹری سندھ
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت صرف ایک سرکاری عہدہ نہیں بلکہ دیانت داری، شفافیت، قربانی اور احساسِ ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

ان کے مطابق ایسے تربیتی پروگرام مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوامی خدمات کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

پروگرام کب تک جاری رہے گا؟
حکام کے مطابق یہ مشترکہ کامن ٹریننگ پروگرام 2 اکتوبر 2026 تک کراچی کے ٹریننگ اینڈ ریسرچ ونگ میں جاری رہے گا، جہاں افسران کو مختلف انتظامی، قانونی اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *