پاکستان کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

گزشتہ سے پیوستہ

چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عوامی مسائل کو دور بیٹھے انتظامیہ کے بجائے مقامی سطح پر دیکھا جائے گا۔ صحت، تعلیم، پانی، صفائی، سڑکوں اور زمین جیسے معاملات میں مقامی حکومت زیادہ تیزی سے فیصلہ کر سکے گی۔ اس سے عوام کو طویل انتظار سے نجات ملے گی اور سرکاری مشینری زیادہ فعال ہو سکتی ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ جوابدہی ہے۔ جب انتظامی مرکز عوام کے قریب ہوگا تو عوام کو یہ معلوم ہوگا کہ ان کے مسائل کا ذمے دار کون ہے۔ بڑے صوبوں میں اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اختیار اوپر ہوتا ہے مگر جوابدہی نچلی سطح پر نہیں نہیں آتی۔ نئے یونٹ اس فاصلے کو کم کر سکتے ہیں۔ تیسرا فائدہ بہتر نمائندگی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں زبانیں، علاقے، ثقافتیں اور معاشی حالات بہت مختلف ہیں، وہاں ایک ہی بڑے انتظامی سانچے میں سب کو چلانا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ چھوٹے صوبے یا نئے یونٹ علاقائی شناخت کو بہتر انداز میں جگہ دے سکتے ہیں اور فیصلہ سازی میں زیادہ لوگوں کی آواز شامل کر سکتے ہیں۔

اس تجویز کے ساتھ کچھ سنجیدہ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے، نئے صوبوں کی حد بندی سے نسلی، لسانی یا علاقائی تنازعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی علاقے کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے یا اس کی شناخت کمزور کی جا رہی ہے، تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتا ہے۔ دوسرا خطرہ سیاسی استعمال ہے۔ پاکستان میں اکثر انتظامی فیصلے سیاسی فائدے یا نقصان کے زاویے سے دیکھے جاتے ہیں۔ اگر صوبے بنانے کا عمل غیر شفاف ہو تو اس پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ اسے مخصوص جماعت یا طاقت کے مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے محسن نقوی کا یہ کہنا اہم ہے کہ اس معاملے پر تمام سیاسی فریقوں کو ایک جگہ بیٹھنا چاہیے۔ تیسرا مسئلہ مالی ہے۔ نئے صوبے بنانے کے لیے دفاتر، افسران، پولیس، عدالتیں، سڑکیں، بنیادی ڈھانچہ اور کئی نئی انتظامی ضرورتیں درکار ہوں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ابتدا میں اخراجات بڑھیں گے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ٹیکس وصولی محدود ہو اور معیشت مسلسل دباؤ میں ہو، یہ ایک بڑا سوال بن جاتا ہے کہ یہ بوجھ کیسے اٹھایا جائے گا۔

آئینی اور قانونی پہلو: پاکستان کے آئین میں صوبوں یا حدود کی تبدیلی کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اور بعض حالات میں صوبائی رضامندی بھی اہم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر واقعی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے ہیں تو اسے آئینی، سیاسی اور قانونی طریقے سے آگے بڑھانا ہوگا۔ اس کے علاوہ وسائل کی تقسیم، ٹیکس کے اختیارات، زمین کے مسائل، پانی کی تقسیم اور سرکاری جائدادوں کی ملکیت جیسے معاملات بھی واضح کرنا ہوں گے۔ اگر یہ چیزیں پہلے طے نہ کی جائیں تو بعد میں نئے تنازعات پیدا ہوں گے اور عدالتی مقدمات لمبے چل سکتے ہیں۔

محسن نقوی کا بیان محض انتظامی اصلاح کی بات نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی سوال کو بھی چھیڑتا ہے: کیا پاکستان کا موجودہ وفاقی ڈھانچہ اب بھی عوامی ضروریات پوری کر سکتا ہے؟ ان کا مؤقف ہے کہ نہیں، اور اسی لیے وہ بار بار نئے انتظامی یونٹوں کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ انہوں نے کسی ایک جماعت پر الزام نہیں لگایا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے کی بات کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ تجویز آگے بڑھے تو اس کا راستہ صرف مکالمے، اعتماد اور شفافیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ اگر حکومت واقعی اس سمت میں جانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ایک غیر جانبدار کمیشن بنانا ہوگا جو یہ دیکھے کہ کون سے علاقے انتظامی طور پر الگ یونٹ بننے کے قابل ہیں۔ اس کمیشن کو آبادی، وسائل، معیشت، جغرافیہ اور عوامی ضروریات سب کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس کے بعد چند علاقوں میں آزمائشی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ یعنی پورے ملک میں ایک ساتھ تبدیلی نہ کی جائے، بلکہ چند علاقوں میں تجربہ کیا جائے اور نتائج دیکھے جائیں۔ اس طرح خطرہ بھی کم ہوگا اور لوگوں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ ساتھ ہی ساتھ مالی منصوبہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ نئے یونٹوں کے لیے ایک عبوری فنڈ بنایا جائے، اخراجات کی شفاف رپورٹنگ ہو، اور شہریوں کو بتایا جائے کہ یہ عمل ان کے لیے کیا فائدہ لائے گا۔ اگر عوام کو فائدہ نظر آئے گا تو مزاحمت کم ہوگی۔

محسن نقوی کی تجویز کو محض ایک سیاسی نعرہ سمجھ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی پچیس کروڑ سے زائد آبادی، کمزور ٹیکس نظام، اور سست انتظامی ڈھانچہ اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ بڑے اصلاحی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ ہر مسئلے کا فوری حل نہیں، لیکن یہ ایک ایسی سمت ضرور ہو سکتی ہے جو حکمرانی کو بہتر، جوابدہی کو مضبوط، اور عوام کو ریاست کے قریب لے آئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی قیادت اتنی جرأت رکھتی ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے بات کرے اور اسے قومی مفاد کے دائرے میں آگے بڑھائے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *