محدود وسائل کے باوجود گلبرگ ٹاؤن کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ
کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انتہائی محدود وسائل کے باوجود ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلبرگ کی جانب سے شہر کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جس انداز میں کام کیا جارہا ہے، وہ قابلِ تحسین اور اپنی مثال آپ ہے جبکہ ’روڈ سائیڈ جنگل‘ جیسے منصوبے گلبرگ ٹاؤن کو کراچی کے ایک ماڈل ٹاؤن کے طور پر نمایاں کررہے ہیں۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے ان خیالات کا اظہار ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلبرگ کے تحت راشد منہاس روڈ پر ’روڈ سائیڈ جنگل فیز ٹو‘ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی گلبرگ کامران سراج، ٹاؤن چیئرمین گلبرگ نصرت اللہ، ڈائریکٹر پارک ندیم حنیف اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن کے پاس انتہائی محدود وسائل ہیں، اس کے باوجود ٹاؤن انتظامیہ جس عزم، دیانت داری اور صلاحیت کے ساتھ دستیاب وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کررہی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ ان کے مطابق گلبرگ ٹاؤن کا ہر شعبہ ترقی کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، چاہے وہ اسکول ہوں، سڑکوں کی تعمیر و بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب یا ماحول کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے منصوبے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’روڈ سائیڈ جنگل‘ کا تصور ایک منفرد اور قابلِ تقلید ماڈل ہے، جسے جماعت اسلامی کے زیر انتظام دیگر ٹاؤنز بھی اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں،کراچی تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہورہا ہے، شہر میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے جبکہ ماحولیاتی مسائل بھی سنگین ہوتے جارہے ہیں۔
سیف الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں شجرکاری اور ماحول دوست منصوبے کسی عیاشی کے بجائے ہنگامی ضرورت بن چکے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں درختوں اور سبز علاقوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو ماحولیاتی مسائل مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی ماحولیاتی صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ شہر میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں، گرین ایریاز میں اضافہ کیا جائے اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے سمیت ماحول دوست منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نے واٹر ہارویسٹنگ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے پیش نظر کراچی میں پانی کے وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے مربوط اور مستقل اقدامات ناگزیر ہیں، بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور اسے مستقبل میں استعمال کے قابل بنانے کے لیے بھی مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جماعت اسلامی کے تمام 9 ٹاؤنز میں اپنی استطاعت کے مطابق عوامی فلاح اور شہر کی بہتری کے لیے کام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم گلبرگ ٹاؤن کو ایک ماڈل ٹاؤن قرار دینا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس محدود بجٹ اور وسائل میں گلبرگ ٹاؤن اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے، اگر اسے مناسب وسائل فراہم کردیے جائیں تو اس کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے،بلدیاتی اداروں کو بااختیار اور وسائل سے مالا مال کیے بغیر کراچی کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیے جاسکتے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس تقریباً 3,000 ارب روپے کا بجٹ موجود ہے، لیکن کراچی کے ٹاؤنز کو ان کی ضروریات کے مطابق وسائل فراہم نہیں کیے جارہے، گلبرگ ٹاؤن کو بھی محدود وسائل میسر ہیں، جن میں کچھ فنڈز حکومت کی جانب سے آتے ہیں جبکہ باقی وسائل ٹاؤن انتظامیہ اپنی کوششوں سے پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کے ٹاؤنز کو ان کی ضرورت کے مطابق مناسب اور بروقت وسائل فراہم کردیے جائیں تو جماعت اسلامی کے زیر انتظام کراچی کے 9 ٹاؤنز کو بہترین ماڈل ٹاؤنز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے،اس صورت میں شہر کی تعمیر و ترقی کے عمل کو مزید تیز کیا جاسکتا ہے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی گلبرگ کامران سراج نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن جس ایمانداری، دیانت داری اور صلاحیت کے ساتھ اپنے وسائل عوامی منصوبوں پر خرچ کررہا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے،روڈ سائیڈ جنگل فیز ٹو‘ بھی اسی عزم اور وژن کا مظہر ہے، جس کا مقصد شہر کو سرسبز بنانا، ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا اور شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔