7 اگست: جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج، کراچی میں مزار قائد سے ریلی کا اعلان
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مون سون بارشوں کے دوران بجلی کی بندش، نکاسی آب، صحت، سڑکوں اور دیگر شہری مسائل پر کے الیکٹرک اور سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی تقریباً 200 فیڈرز ٹرپ کرگئے، جس کے باعث شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری کے وقت کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے اور شہریوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہری بھاری بجلی بلوں کے ساتھ مختلف ٹیکس بھی ادا کررہے ہیں، اس کے باوجود بارش ہوتے ہی بجلی کا نظام متاثر ہوجاتا ہے۔ منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ کے الیکٹرک کے خلاف شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور کراچی کا مقدمہ لڑتی رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے شہر میں اربن فلڈنگ کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بڑے نالوں کی مناسب صفائی نہیں کی گئی اور شہر کا کچرا بھی نالوں میں پھینکا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میئر کراچی، کمشنر اور متعلقہ حکام تمام ٹاؤنز کے ساتھ ریسکیو 1122 سمیت دیگر اداروں کو بھی مون سون انتظامات میں شامل کریں۔
مواچھ گوٹھ میں 7 سالہ بچے کے گٹر میں گرنے سے جاں بحق ہونے کے واقعے پر منعم ظفر نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متعلقہ یونین کمیٹی اور ٹاؤن کی ذمہ داری تھی کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جاتے۔
انہوں نے صوبے میں صحت کی سہولیات پر بھی سوالات اٹھائے اور ولیکا اسپتال کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمندر کے کنارے ہونے کے باوجود پانی جیسے بنیادی مسئلے سے دوچار ہے۔
منعم ظفر خان نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر ایک دوسرے کو سیاسی سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی اور ترامیم کے موقع پر سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں، لیکن عام شہریوں کے مسائل کی بات آئے تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے۔
انہوں نے نیپا سے حسن اسکوائر تک جاری کام کی تکمیل میں تاخیر پر بھی سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی ذمہ داری صوبائی وزیر شرجیل میمن، میئر کراچی اور حکومت سندھ پر عائد کی۔ منعم ظفر نے ڈسکو بیکری کے مقام پر مجوزہ برج پر بھی اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا اور ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد متعدد اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہیں لیکن عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ لیوی کی مد میں وصول کیا جانے والا ٹیکس ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 7 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کرے گی جبکہ کراچی میں مزار قائد سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ اس احتجاج کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔