بحریہ انکلیو اسلام آباد کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا، ہیڈ کوارٹر کو سیل کرنے کا حکم
اسلام آباد: بحریہ انکلیو اسلام آباد سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت اور انتظامی دفاتر کے خلاف کارروائی سے متعلق احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق بحریہ انکلیو اسلام آباد کے حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے اور ہیڈکوارٹر سیل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ تاہم کارروائی کی مکمل تفصیلات اور اس کے قانونی دائرہ کار سے متعلق مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق بحریہ انکلیو فیز-I، زون 4 میں واقع ہاؤسنگ اسکیم ہے۔ اس منصوبے کا لے آؤٹ پلان منظور شدہ درج ہے، تاہم موجودہ سرکاری ریکارڈ میں اس کے این او سی کی حیثیت “Not Issued” لکھی گئی ہے۔
سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے پہلے لے آؤٹ پلان کی منظوری اور اس کے بعد دیگر قانونی تقاضے مکمل ہونے پر ترقیاتی کام اور پلاٹوں کی فروخت کے لیے این او سی جاری کیا جاتا ہے۔
بحریہ انکلیو کے معاملے میں ماضی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی این او سی اور ترقیاتی سرگرمیوں سے متعلق معاملات سامنے آچکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے ایک سرکاری جواب کے مطابق بحریہ انکلیو کا ابتدائی لے آؤٹ پلان 2011 میں منظور کیا گیا تھا، جبکہ 2013 میں پوسٹ لے آؤٹ پلان کی ضروری کارروائی مکمل نہ ہونے اور این او سی کے اجرا سے قبل ترقیاتی کام شروع کیے جانے کی وجہ سے اسے منسوخ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں منصوبے سے متعلق مزید کارروائی اور لے آؤٹ پلان کی درخواست زیر غور رہی۔
سی ڈی اے کے موجودہ ریکارڈ میں بحریہ انکلیو کے بعض دیگر منصوبوں کی حیثیت مختلف بھی درج ہے۔ مثال کے طور پر بحریہ انکلیو-II ایگرو فارمنگ اسکیم اور بحریہ انکلیو-II فیز-II کے لیے این او سی جاری ہونے کا اندراج موجود ہے، جبکہ فیز-I کے سامنے این او سی جاری نہ ہونے کی حیثیت درج ہے۔
سی ڈی اے حالیہ دنوں میں اسلام آباد کی مختلف غیر قانونی یا غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔ سرکاری پبلک نوٹسز کے مطابق ستمبر 2026 میں متعدد غیر قانونی اسکیموں کے سائٹ اور مینجمنٹ دفاتر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
بحریہ انکلیو سے متعلق تازہ کارروائی کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ ہیڈکوارٹر سیل کرنے کا حکم کس مخصوص قانونی یا انتظامی معاملے کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد منصوبے سے وابستہ رہائشیوں، سرمایہ کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی توجہ بھی معاملے کی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہوگئی ہے۔