فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مان سکتے، صوبوں کو توڑنا کسی صورت درست نہیں، مولانا فضل الرحمن
پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کسی فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مانے جا سکتے، ملک میں رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، سخت ریاستی طرز عمل سے گھٹن پیدا ہوگی اور عوام ریاست سے متنفر ہوں گے۔
پشاور میں جے یو آئی (ف) کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت نے مشترکہ اپوزیشن کی بات کی ہے اور موجودہ سیاسی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے، بعض معاملات میں قانون سازی اس قدر تیزی سے کی گئی کہ آدھے گھنٹے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے قانون منظور ہوگیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ کی پالیسی اختیار کرنے سے معاشرے میں گھٹن پیدا ہوگی اور لوگ ریاست سے متنفر ہوجائیں گے، وہ ادب و احترام کے ساتھ اپنے سپہ سالار سے کہنا چاہتے ہیں کہ منصب کے حوالے سے کچھ رہنمائی حاصل کی جائے اور ریاستی و سیاسی معاملات میں رویوں میں تبدیلی لائی جائے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے عالمی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراق کے سابق صدر صدام حسین کو پھانسی دی جاسکتی ہے تو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاسکتا،پاکستان بھی امریکا کا اتحادی بن گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ڈالرز حاصل کرتا رہا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں دہشت گردی ختم ہوگئی؟
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ بعض علاقوں میں حکومت کی رٹ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، بنوں اور لکی مروت میں پولیس افسران کے احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں ہورہا جبکہ بعض علاقوں میں اعلیٰ پولیس حکام کی ہدایات بھی مؤثر ثابت نہیں ہورہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبوں کی باتیں کرنا مناسب نہیں، جب ملک میں بدامنی کے شعلے بھڑک رہے ہوں تو اس وقت صوبوں کو توڑنے کی باتیں کرنا کسی طور درست نہیں۔
فاٹا انضمام کا حوالہ دیتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس وقت بھی شدید مخالفت کی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اس فیصلے کے پیچھے امریکا کا کردار تھا،اگر اس وقت فاٹا کو ضم کیا گیا تو آج صوبوں کو تقسیم کرنے کی بات کیوں کی جارہی ہے؟
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے وسائل اور محصولات میں اضافے کی بات کی گئی تھی جبکہ اب نئے این ایف سی ایوارڈ کے لیے صوبے اپنے حقوق کے حوالے سے بات کررہے ہیں،صوبوں کے اندر موجود معدنی ذخائر کے معاملے میں قبائل کو ان کے وسائل کا مالک تسلیم کرنے کے لیے بھی آمادگی نظر نہیں آتی۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے، وہ ماضی میں بلوچستان میں ایک گاڑی میں سفر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں گھومتے رہے ہیں، لیکن آج وہاں ایسی صورتحال کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی شاہراہوں پر جگہ جگہ ناکے لگے ہوئے ہیں اور امن و امان کی صورتحال سنگین ہے،صوبوں کے حوالے سے ان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں صوبوں کو توڑنا کسی صورت درست نہیں اور قومی مسائل کا حل سیاسی مشاورت، آئینی دائرہ کار اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن نے حکومت اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی، بدامنی اور سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے اور ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جو عوام میں مزید بے اعتمادی پیدا کریں۔