| |

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، مسجد اور پناہ گزینوں کے خیمے ملبے کا ڈھیر بن گئے

مقبوضہ بیت المقدس:  غزہ کے وسطی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک مسجد اور بے گھر فلسطینیوں کے زیر استعمال خیمے تباہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ایک مرتبہ پھر پناہ سے محروم ہو گئے۔

صہیونی جارحیت کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی جبکہ متعدد قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ سٹی میں ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن (وائی ایم سی اے) کے قریب واقع المتقین مسجد کو نشانہ بنایا۔ حملے کی شدت کے باعث مسجد مکمل طور پر منہدم ہوگئی جبکہ اطراف میں قائم عارضی خیمے بھی تباہ ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ خیموں میں وہ فلسطینی خاندان رہائش پذیر تھے جو پہلے ہی اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھر ہو چکے تھے اور محدود وسائل کے ساتھ عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے تھے۔ تازہ حملے کے بعد یہ خاندان دوبارہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔

حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور دیگر شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وائی ایم سی اے، جس کے قریب یہ واقعہ پیش آیا، غزہ میں ایک معروف سماجی ادارہ ہے جو مذہبی تفریق کے بغیر نوجوانوں، کھیلوں اور انسانی ہمدردی کی مختلف خدمات فراہم کرتا ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں فوجی کارروائیوں کے باعث شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

وزارت اوقاف و مذہبی امور کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل موجود 1,275 مساجد میں سے 1,050 مکمل طور پر تباہ جبکہ 191 کو جزوی نقصان پہنچ چکا ہے۔

فلسطینی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری کارروائیوں میں 73 ہزار سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *