میسی کو فیفا ورلڈ کپ میں دی گئی قتل کی دھمکیاں، سیکیورٹی ہائی الرٹ
واشنگٹن: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران فٹ بال کے عالمی شہرت یافتہ ستاروں کو ملنے والی دھمکیوں نے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی کو مختلف مواقع پر نشانہ بنانے کی کوششوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
میسی کو درپیش خطرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈیلاس ایئرپورٹ پر ایک شخص نے کال کر کے اسٹیڈیم میں گرینیڈ اور رائفل سے حملے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی میسی کو بم سے اڑانے کے پیغامات دیے گئے۔
مصر کے خلاف میچ کے دوران اسٹیڈیم میں بم کی اطلاع پر فوری طور پر سیکیورٹی کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور تربیت یافتہ کتوں نے کچرے کے ڈبوں سمیت پورے اسٹیڈیم کی تلاشی لی، تاہم کسی قسم کا کوئی دھماکا خیز مواد وہاں سے برآمد نہیں ہوا۔
دوسری جانب پرتگال کے لیجنڈری کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو بھی سیکیورٹی خدشات کی زد میں رہے۔ ایک مشکوک شخص مداح کا روپ دھار کر رونالڈو کے ہوٹل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جس نے انتظامیہ کو چوکنا کر دیا۔ اس واقعے نے کھلاڑیوں کی حفاظت پر بڑے سوالات اٹھائے ہیں۔
اس ایونٹ کے دوران ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر کو بھی میچ کے فیصلوں کے بعد ہزاروں دھمکی آمیز پیغامات ملے۔ کھلاڑیوں الیگزینڈر سورلوتھ اور جے ہون کیمپاز کو بھی اہم مواقع ضائع کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، جس سے کھلاڑیوں میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔
ان واقعات کے بعد حکام نے انگلینڈ کے میڈیا سینٹر سمیت دیگر اہم مقامات پر حفاظتی حصار مزید سخت کر دیے۔ وہاں کنکریٹ کی رکاوٹیں، اینٹی اسنائپر اسکرینز اور نو فلائی زون قائم کیے گئے، جس سے یہ ٹورنامنٹ تاریخ کے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات والے ایونٹس میں شامل ہو گیا۔
واضح رہے کہ اس ٹورنامنٹ کی میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ فائنل مقابلے میں اسپین نے ارجنٹائن کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ سیکیورٹی کے ان واقعات کے باوجود ایونٹ کا انعقاد مکمل ہوا، تاہم یہ دھمکیاں عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی سلامتی پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔