آبنائے ہرمز سے متعلق ایران، عمان معاہدہ آخری مرحلے میں
دبئی: ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی سے متعلق معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سکیورٹی خدشات اور سفارتی سرگرمیوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اشارہ دیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق مشترکہ بیان کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔
ادھر امریکی فوج کی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کارروائیوں کے دوران امریکی فورسز اب تک 48 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کر چکی ہیں تاکہ سمندری نقل و حمل کو اپنی حکمت عملی کے مطابق محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج عدن میں ایک اور سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایک روز کے اندر سعودی تیل بردار جہاز پر یہ دوسرا حملہ ہے، جس کے بعد بحری سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی توانائی کی منڈی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی بحری تجارت کے لیے کھلا رکھا جائے گا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید بھی برقرار ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ جاری مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔