روبوٹ ٹریفک پولیس
|

روبوٹ ٹریفک پولیس کا کام کرنے لگے

ہانگژو: سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی روبوٹ پولیس اب حقیقت کا روپ دھارنے لگی ہے۔ چین کے شہر ہانگژو میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹس نے سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں جو شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی کی یاد دہانی کرانے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔

ہانگژو کی سڑکوں پر نظر آنے والے یہ روبوٹ تقریباً 6 فٹ 2 انچ بلند اور 98 کلوگرام وزنی ہیں۔ انہیں مقامی کمپنی سپ کون انفارمیشن نے تیار کیا ہے اور ٹی 2 روبوٹس کو مختلف مقامات پر ٹریفک مینجمنٹ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ روبوٹ جدید کیمروں، راڈار اور کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے سڑکوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں روکنے اور نرم انداز میں وارننگ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روبوٹس کا ایک دلچسپ کام ٹریفک سگنلز کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر اپنے مکینیکل ہاتھوں کو حرکت دینا بھی ہے، جس کے ذریعے وہ سڑک پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں معاونت کرتے ہیں۔

صرف ٹریفک نگرانی ہی نہیں، یہ مشینی اہلکار شہریوں اور سیاحوں کے سوالات کے جواب بھی دے سکتے ہیں۔ راستوں، پارکنگ اور ٹریفک قوانین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے علاوہ کسی ہنگامی صورتحال میں مقامی پولیس کو اطلاع دینے کی صلاحیت بھی ان روبوٹس میں موجود ہے۔

کمپنی کے مطابق مئی 2026 سے اب تک ہانگژو میں 15 ٹی 2 روبوٹس تعینات کیے جاچکے ہیں۔ ان روبوٹس کی کارکردگی کے حوالے سے کمپنی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اب تک ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد وارننگز جاری کی ہیں۔

وہ شہر جہاں روبوٹ ٹریفک پولیس کا کام کر رہے ہیں

کمپنی کے مطابق روبوٹ پولیس کی تعیناتی کے بعد ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کے واقعات میں 40 فیصد تک کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ان روبوٹس کو میدان میں اتارنے سے قبل مختلف حالات میں طویل آزمائشی مرحلے سے گزارا گیا۔ سیاحتی مقامات، اسکول زونز، مختلف اضلاع اور خراب موسم میں ہزاروں گھنٹوں کی ٹیسٹنگ کے بعد انہیں عملی طور پر تعینات کیا گیا۔

روبوٹس کو اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے،  شدید موسم ان کے لیے اب بھی ایک چیلنج ہے، تیز دھوپ، بارش اور شدید گرمی ان کے کیمروں اور راڈار کی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔اس کے باوجود کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام ٹریفک خلاف ورزیوں کی 95 فیصد تک درست شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کا مقصد شہریوں کو جرمانہ یا سزا دلوانے کے بجائے انہیں بروقت خبردار کرنا ہے، تاکہ معمولی ٹریفک خلاف ورزیاں مستقل عادت نہ بن جائیں۔روبوٹ پولیس اہلکاروں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ انہیں انسانی اہلکاروں کی طرح تھکن کا سامنا نہیں ہوتا۔ یہ روبوٹس طویل دورانیے تک مسلسل کام کرسکتے ہیں اور روزانہ صبح 7 بجے سے شام تک مقررہ مقامات پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

ان کی نقل و حرکت بھی پہلے سے طے شدہ پوزیشنوں اور راستوں کے مطابق ہوتی ہے جبکہ ایک مرکزی پلیٹ فارم سے ٹریفک پولیس کی ٹیمیں ان تمام روبوٹس کی نگرانی کرتی ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *