| |

ایران پر امریکی فضائی حملوں کا مسلسل گیارہواں روز، کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ

تہران: امریکی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے مسلسل گیارہویں رات بھی ایران کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد ملک بھر میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور ایرانی حکام نے فضائی دفاعی نظام کو مکمل فعال کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ یہ عسکری کارروائیاں ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں جو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے محفوظ گزرنے کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی طیاروں کی جانب سے بوشہر کے نواحی علاقوں کے علاوہ کرمانشاہ اور خوزستان کے اہم حصوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کناک اور سیریک کے علاقوں میں بھی دھماکوں کی گونج سنائی دی ہے جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ایرانی حکام نے ممکنہ فضائی حملوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تہران سمیت اہم شہروں میں دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ تہران کا فضائی دفاعی نیٹ ورک مکمل طور پر فعال ہے تاکہ کسی بھی غیر ملکی دراندازی کو بروقت روکا جا سکے۔

ان فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصانات کے حوالے سے فی الحال سرکاری سطح پر کوئی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ حکومتی ترجمان نے اس صورتحال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ عسکری قیادت مسلسل حالات کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری یہ غیر معمولی فوجی کشیدگی عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش بنتی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے اور اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

فی الحال دونوں ممالک کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایران کے متعدد شہروں میں مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ عالمی مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ چھڑ سکتی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *