امریکی ایوان نمائندگان نے ایران تنازع سے فوج واپس بلانے کی وار پاورز قرارداد منظور کرلی
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد ڈیموکریٹ رکن کانگریس پرامیلا جے پال نے پیش کی، جس کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ آئے۔رائے شماری کے دوران ڈیموکریٹ ارکان نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ ریپبلکن جماعت کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ایوان نمائندگان نے ایران کے حوالے سے اسی نوعیت کی وار پاورز قرارداد منظور کی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی قرارداد منظور کی تھی، جسے بعد ازاں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری کو سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے، اس کی قانونی حیثیت محدود ہے، ایسی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر کو بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
قرارداد پر بحث کے دوران ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی۔
یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں منظور ہوئی ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔