ایران نے امریکا کی جنگ بندی تجویز مسترد کر دی، آبنائے ہرمز سمیت بنیادی معاملات کے حل پر زور
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ محض عارضی جنگ بندی سے موجودہ بحران کا حل ممکن نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی سے قبل بنیادی تنازعات، بالخصوص آبنائے ہرمز کے معاملے اور دیگر اہم امور پر واضح پیش رفت ضروری ہے، مختصر مدت کی جنگ بندی سے مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے اور خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق عراق کے وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکی حکام کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی جنگ بندی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، ایسا کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا جس میں ایران کے بنیادی تحفظات اور اسٹریٹجک معاملات کو نظر انداز کیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایرانی قیادت کو آگاہ کیا ہے، ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے لیے پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا طرزِ عمل ہے، واشنگٹن کی پالیسیاں غیرمنطقی، مفاد پرستانہ اور دوسروں پر دباؤ ڈالنے والی ہیں، جو موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور ایسے کسی معاہدے پر رضامند نہیں جو اس کے قومی مفادات اور علاقائی پوزیشن کو متاثر کرے۔
دوسری جانب رپورٹ شائع ہونے تک امریکی حکومت کی جانب سے نیویارک ٹائمز کے دعوے یا ایران کے مؤقف پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔